رسائی کے لنکس

انگور اڈہ سرحدی راستہ کھل گیا

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

توقع کی جا رہی ہے کہ اس راستے کے کھلنے سے تجارتی سرگرمیاں جلد مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی، جس سے عام لوگوں کی مشکل میں کچھ کمی آئے گی۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں افغان سرحد پر واقع ’انگورہ اڈہ گیٹ‘ لگ بھگ چار ماہ تک بند رہنے کے بعد جمعرات کی شام دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ کے مقام پر قائم ایک ’چیک پوسٹ‘ یا سرحدی کراسنگ پوائنٹ افغان حکومت کے حوالے کر دیا۔

اس چیک پوسٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے کچھ ہی روز بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے سبب افغان حکام نے اسے بند کر دیا تھا۔

’انگور اڈہ‘ گیٹ کی بندش سے پاکستان اور افغان سرحد کی دونوں جانب آباد قبائل کو نا صرف سرحد کے آر پار سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ تجارتی سامان کی آمد و رفت میں رکاوٹ نے مقامی قبائلیوں کے مسائل مزید بڑھا دیے۔

جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ سرحدی راستہ کھولنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کے حکومتی عہدیداروں کے بھی کئی اجلاس ہوئے۔

پولیٹیکل ایجنٹ ظفر الاسلام خٹک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جمعہ کو گیٹ کھلنے کے بعد دونوں جانب سے گاڑیوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی ہے۔

سرحد کی دونوں جانب کے قبائل نے پاکستانی اور افغان انتظامیہ سے رابطے کر کے اُنھیں نا صرف اپنی مشکلات سے آگاہ کیا بلکہ یہ راستہ کھولنے کی درخواست بھی کی۔ کامیاب مذاکرات کے بعد اب یہ سرحدی راستہ کھول دیا گیا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس راستے کے کھلنے سے تجارتی سرگرمیاں جلد مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی، جس سے عام لوگوں کی مشکل میں کچھ کمی آئے گی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کی نگرانی بہتر بنانے کی غرض سے انگور اڈہ کے مقام پر چیک پوسٹ قائم کی گئی تھی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور شدت پسند اکثر دشوار گزار سرحدی علاقوں سے عام شہریوں کے بھیس میں ایک دوسرے کے ملک میں داخل ہوتے رہے ہیں۔

متعین کردہ راستوں کی بجائے دیگر راستوں سے ایک سے دوسرے ملک میں غیر قانونی آمد و رفت کا معاملہ دونوں ملکوں کے مابین سرحدی امور کے حوالے سے تناؤ کا باعث بنتا رہا ہے۔

خاص طور پر پاکستان کی طرف سے یہ مطالبات کیے جاتے رہے ہیں کہ افغان حکومت سرحد کی نگرانی کے لیے مزید اقدام کرے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان کی طرف سے افغان سرحد کی نگرانی موثر بنانے کے لیے اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے، جس میں قابل ذکر خیبر ایجنسی میں طورخم بارڈر کے مقام پر ایک گیٹ کی تعمیر شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG