رسائی کے لنکس

ملا برادر کی رہائی پر بات چیت کی تصدیق

  • یاسر منصوری
  • اسلام آباد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ملا عبدالغنی برادر کو پاکستانی حکام نے فروری 2010ء میں اُس وقت گرفتار کیا تھا جب اطلاعات کے مطابق وہ کرزئی حکومت کے ساتھ رابطوں کے سلسلے میں کراچی کے راستے سفر کر رہے تھے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ اس کی زیرِ حراست اہم طالبان کمانڈر ملا برادر کی رہائی اور افغانستان کو حوالگی پر دوطرفہ بات چیت جاری ہے۔

رواں ہفتے مقامی اخبارات نے یہ اطلاع دی تھی کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے حالیہ دورہ کابل کے موقع پر بھی صدر حامد کرزئی نے افغان طالبان کے مفرور رہنما ملا عمر کے دست راست اور مبینہ کوئٹہ شوریٰ کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا مطالبہ دہرایا تھا جس کے بعد پاکستان نے ان کی رہائی پر غور شروع کر دیا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے ان اطلاعات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے جمعہ کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیور کانفرنس سے خطاب میں اس بات کی تصدیق ضرور کی کہ قیدیوں کی رہائی کا معاملہ بھی افغانستان کے ساتھ بات چیت میں زیرِ غور ہے۔

’’قیدیوں کا معاملہ یقیناً دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا حصہ ہے مگر فی الوقت اس کے نتائج کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو کچھ نہیں بتایا جا سکتا ہے۔‘‘

افغان طالبان کے مفرور رہنما ملا عمر کے دست راست اور مبینہ کوئٹہ شوریٰ کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کو پاکستانی حکام نے فروری 2010ء میں اُس وقت گرفتار کیا تھا جب اطلاعات کے مطابق وہ کرزئی حکومت کے ساتھ رابطوں کے سلسلے میں کراچی کے راستے سفر کر رہے تھے۔

افغان حکام ملا برادر کی گرفتاری پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے مسلسل اُن کی حوالگی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔

مزید برآں وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ ملا برادر کی افغانستان کو حوالگی میں تاخیر اور پاک افغان سرحد پر کشیدگی صدر حامد کرزئی کی تشکیل کردہ اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کے مجوزہ دورہ پاکستان کے التوا کی وجہ بنے۔

’’افغان اور پاکستانی حکام اس دورے کے لیے ایسی تاریخوں کا تعین کرنے میں مصروف ہیں جو دونوں کے لیے قابل قبول ہوں۔‘‘
XS
SM
MD
LG