رسائی کے لنکس

أفغان مریضوں کو طورخم سرحد پر ویزا جاری کیا جائے گا


وزیر داخلہ چوہدیر نثار علی خان طورخم سرحدی گذرگاہ پر امیگریشن سہولتوں کے افتتاح کے موقع پر عہدے داروں کے ہمراہ۔ 21 دسمبر 2016

وزیر داخلہ چوہدیر نثار علی خان طورخم سرحدی گذرگاہ پر امیگریشن سہولتوں کے افتتاح کے موقع پر عہدے داروں کے ہمراہ۔ 21 دسمبر 2016

زیادہ تر أفغان پناہ گزین خصوصی کارڈوں یا پاکستان اور أفغان حکومتوں کی جانب سے منقسم خاندانوں کے ارکان کے لیے فراہم کردہ رعائت کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرتے ہیں۔

پاکستان نے أفغان باشندوں کو علاج معالجے کے لیے آنے والوں کو ویزے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس فیصلے کا اعلان سرحدی گذر گاہ طورخم پر امیگریشن کی نئی سہولتوں کی افتتاحي تقریب کے موقع پر کیا۔

دهشت گردی سے منسلک باہمی کشیدگیوں کے باوجود پاکستانی وفاقی وزیر نے سینیر فوجی افسروں کے ہمراہ سرحد عبور کی اور أفغان بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہل کاروں کے ساتھ مصافحہ کیا۔

أفغان کمانڈر نے پاکستانی وزیر داخلہ کا استقبال کیا اور انہیں بتایا کہ أفغان مریضوں کو ویزے کی پابندیوں کی وجہ سے پاکستانی اسپتالوں میں جا کر علاج کرنے کے سلسلے میں شديد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

چوہدی نثار نے انہیں یقین دلایا کہ ان کا یہ مسئلہ حل کردیا جائے گا اور علاج کی غرض سے پاکستان آنے والے أفغان باشندوں کو طورخم سرحد پر ہی ویزا جاری کر دیا جائے گا۔

پاکستانی حکام نے حال ہی میں أفغانستان کے ساتھ اپنی 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر نگرانی سخت کر دی ہے تاکہ عسکریت پسندوں کی آمد و رفت کو روکا جا سکے۔ اس نئے انتظام کے تحت ویزے کا حصول تمام أفغان باشندوں کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

پاکستانی حکام کے اندازے کے مطابق جون میں نئے انتظامات کے تحت 30 ہزار أفغان باشندوں نے طور خم کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔

زیادہ تر أفغان پناہ گزین خصوصی کارڈوں یا پاکستان اور أفغان حکومتوں کی جانب سے منقسم خاندانوں کے ارکان کے لیے فراہم کردہ رعائت کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرتے ہیں۔

چوہدی نثار علی خان نے کہا ہے کہ سن 2000 تک أفغانستان کی سرحد پر چھ مخصوص گذرگاہیں تعمیر کر لے گا جہاں امیگریشن کے جدید ترین انتظامات ہوں گے ۔

XS
SM
MD
LG