رسائی کے لنکس

سرتاج عزیز نے ہفتہ کو بتایا کہ دونوں ملک دہشت گردی کو مشترکہ دشمن سمجھتے ہیں اور اس بارے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی مشاورت ہوئی ہے۔

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ملک کی سرحد کو بند کیے جانے کا اقدام سلامتی کے نقطہ نظر سے کیا گیا تھا اور جلد ہی یہ سرحدی راستے کھول دیے جائیں گے۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مختلف دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستانی عہدیداروں کی طرف سے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں میں سرحد پار افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسند ملوث ہیں اور 16 فروری کو دونوں ملکوں کے درمیان طورخم کے مقام پر مرکزی سرحدی گزرگاہ کو پاکستان نے یکطرفہ طور پر بند کر دیا تھا۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش کا تعلق سلامتی سے متعلق معاملات سے ہوتا ہے اور ماضی میں بھی ایسے ہی اقدام کیے جاتے رہے ہیں۔

"جب آپ کے ہاں اتنے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں دہشت گردی کے اور اس پر یہ اشارہ ہو کہ اس کا تانا بانا وہاں (افغانستان) سے ملتا ہے تو آپ کو اس پر اقدام کرنا ہوتا ہے۔ وہ ایک عارضی اقدام تھا۔۔۔اب امید ہے کہ جلد ہی راستے کھول دیے جائیں گے، ہم تو چاہتے ہیں کہ عوام کو تکلیف نہ ہو اور دونوں طرف سے عوام کا آنا جانا ٹھیک ہو۔"

سرحد کی اس بندش پر افغانستان کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا اور ہفتہ کو ہی اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال نے اپنے فیس بک پیج پر ایک بیان میں یہ کہا کہ سرحد دو تین روز میں مکمل طور پر کھل جائے گی۔

اس بندش سے جہاں آر پار تجارتی قافلوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی وہیں ہزاروں عام شہریوں کی نقل و حرکت میں بھی خلل آیا۔

پاکستان نے اپنے ہاں ہونے والے دہشت گرد واقعات کے بعد افغان حکام کو ایسے دہشت گرد عناصر کی فہرست دی تھی جو ان کارروائیوں کے لیے مبینہ طور پر افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں جس کے بعد افغان حکام کی طرف سے بھی پاکستان کو ان دہشت گردوں کے ناموں سے مطلع کیا گیا جو مبینہ طور پر پاکستانی سرزمین استعمال کر کے افغان علاقوں میں تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں۔

سرتاج عزیز نے ہفتہ کو بتایا کہ دونوں ملک دہشت گردی کو مشترکہ دشمن سمجھتے ہیں اور اس بارے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی مشاورت ہوئی ہے۔

"یہ لائحہ عمل مختلف سطح پر ہوگا، فوجی سطح پر بھی ۔۔۔ ہم نے انھیں تجاویز بھیجی ہیں اور اگر اس پر اتفاق ہو گیا تو (اقتصادی تعاون تنظیم کی) کانفرنس میں اسے طے کر لیا جائے گا۔"

اقتصادی تعاون تنظیم کی یہ کانفرنس آئندہ بدھ کو اسلام آباد میں ہونے جا رہی ہے اور اس میں بھی افغانستان میں ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG