رسائی کے لنکس

سرحدی معاملات کو سلجھانے کے لیے جرگہ تشکیل دینے کی تجویز

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

قبائلی راہنما ملک عبدالرزاق ذکاخیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دو طرفہ کشیدگی کے باعث خاص طور پر سرحد کی بندش سے دونوں جانب کے عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ان کی روز مرہ زندگی پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے مختلف سرکردہ قبائلی عمائدین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے معاونت کی پیشکش کی ہے۔

پاکستان نے 16 فروری کو طورخم اور چمن کے مقامات پر افغانستان کے ساتھ سرحد کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا تھا اور افغانستان کے متواتر اصرار پر گزشتہ منگل اور بدھ کو یہ گزرگاہیں صرف ان افراد کے لیے کھولی گئی تھیں جن کے پاس ویزا تھا اور وہ اپنے امور کی انجام دہی کے بعد سرحد کی بندش کے باعث دونوں جانب پھنس کر رہ گئے تھے۔

قبائلی عمائدین کے ایک جرگے نے لنڈی کوتل میں خیبر رائفلز کے کمانڈنٹ سے ہفتہ کو دیر گئے ملاقات کی جس میں ایک ایسا جرگہ تشکیل دینے کا کہا گیا کہ جو پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں سے مشاورت کرے اور سرحدی معاملات کو سلجھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

اس ملاقات میں شامل قبائلی راہنما ملک عبدالرزاق ذکاخیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دو طرفہ کشیدگی کے باعث خاص طور پر سرحد کی بندش سے دونوں جانب کے عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ان کی روز مرہ زندگی پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

"لوگوں کو بہت تکلیف ہے تاجروں کو مزدوروں کو بہت تکلیف ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے ایک جرگہ بنائیں جو حکومت پاکستان سے بھی بات کرے اور افغانستان کی حکومت سے بھی آپ لوگوں نے یہ کیا شروع کیا ہوا ہے۔"

ایک برس کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات مختلف وجوہات کی بنا پر پیدا ہونے والے تناؤ کے باعث متعدد بار پاک افغان سرحد کو بند کیا جا چکا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان ان اہم زمینی رابطوں کے ذریعے روزانہ ہزاروں افراد ایک سے دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں جب کہ تجارت کے لیے بھی یہ راستہ بہت اہم ہے اور سرحد کی بندش سے تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔

ملک عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیئے اور افغانستان کو بھی مسئلے کے لیے تعاون کرنا چاہیئے۔

"پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی جھڑپیں ہوتی ہیں وہ سرحد تو بند نہیں کی کبھی کسی نے تو افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے مسلمان ملک بھی ہے تو ایسا طریقہ ہونا چاہیئے کہ اس کے ساتھ بھی تعلقات اچھے ہوں۔ مشورے کے ساتھ جرگے کے ساتھ یہ بات ہو۔"

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی طرف سے سرحد کو عارضی طور پر کھولے جانے کے باوجود تجارتی سامان سے لدے ٹرکوں کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

دو روز قبل ہی طورخم سرحد پر سامان سے لدے ٹرکوں کے مالکان اور ڈرائیوروں نے شدید احتجاج بھی کیا تھا اور ان کا موقف ہے کہ سرحد کی بندش سے انھیں اب تک کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے اور اگر یہ بندش مزید عرصے تک جاری رہے تو یہ ان کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا سبب بنے گی۔

پاکستان کا موقف ہے کہ سلامتی کے خدشات کے باعث بند کی گئی سرحد کو صورتحال میں بہتری کے بعد ہی کھولا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG