رسائی کے لنکس

طالبان کی دراندازی روکنے کے لیے افغان سرحد کی بندش

  • ب

سرحدی نگرانی پر معمور پاکستانی اہلکار (فائل فوٹو)

سرحدی نگرانی پر معمور پاکستانی اہلکار (فائل فوٹو)

پاکستانی حکام کا الزام ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے جنگجوؤں نے فوجی آپریشن سے فرار ہونے کے بعد مشرقی افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں پناہ لے رکھی ہے جہاں سے وہ افغان حکام کی مدد سے سرحد پار پاکستانی فوجی اور شہری اہداف پر حملے کرتے ہیں۔

پاکستان نے عسکریت پسندوں کی دراندازی روکنے کے لیے شمال مغربی ضلع لوئر دیر میں افغانستان کے ساتھ سرحد بند کر دی ہے۔

ضلعی حکام نے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے تحریک طالبان کے مفرور جنگجوؤں کے حملوں کو روکنے کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات میں لوئر دیر میں تقریباً 25 کلومیٹر طویل سرحد کی موثر بندش بھی شامل ہے۔

ضلعی رابطہ افسر یا ڈی سی او محمد اسلم وزیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ان اقدامات کی بدولت دراندازی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

’’آنے والے دنوں میں لوئر دیر میں حالات مزید بہتر ہوں گے۔‘‘

ضلعی رابطہ افسر کا کہنا تھا کہ لوئر دیر میں بن شاہی کے مقام پر سرحدی پٹی کی بندش بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

پاکستانی حکام کا الزام ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے جنگجوؤں نے فوجی آپریشن سے فرار ہونے کے بعد مشرقی افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں پناہ لے رکھی ہے جہاں سے وہ افغان حکام کی مدد سے سرحد پار پاکستانی فوجی اور شہری اہداف پر حملے کرتے ہیں۔

مقامی عسکری ذرائع کا خیال ہے کہ ملحقہ باجوڑ ایجنسی میں سرحد پردراندازوں کے حملوں میں اضافہ کی وجہ لوئر دیر میں سرحد کی موثر بندش ہے۔

حالیہ دنوں میں باجوڑ کے سرحدی خطے بٹوار میں مبینہ طور پر سرحد پارسے آنے والے سینکڑوں طالبان جنگجوؤں کے ساتھ پاکستانی افواج اورامن لشکر کی خورنیز جھڑپیں ہوئی تھیں۔

گزشتہ ہفتے ہونے والی لڑائی میں پاکستانی حکام نے اپنے چھ فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور پندرہ کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی جبکہ جوابی کارروائی میں درجنوں حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔

طالبان جنگجوں نے یرغمالیوں کو قتل کرنے کے بعد حال ہی میں ایک ویڈیو فلم میڈیا کو جاری کی ہے جس میں مقتول فوجیوں کے سر، ان کی وردیوں اور دیگر سرکاری دستاویزات کی نمائش کی گئی۔ پاکستانی فوجی حکام کی طرف سے طالبان کے اس دعوے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے طالبان کے اس وحیشانہ فعل اور فلم کے ذریعے اس کی نمائش کی شدید مذمت کرتے ہوئے انتہا پسندوں کی سفاکانہ کارروائیوں میں اسے ایک نئے باب کا اضافہ قراردیا ہے۔

ایک روز قبل جاری کیے گئے ایک بیان میں تنظیم نے متنبہ کیا کہ اگر ریاست کے تمام اداروں بشمول سیاسی جماعتوں نے یکجا ہوکر انتہا پسندوں کی مخالفت نہ کی تو پاکستان کے لیے اس کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔

ایج آرسی پی کے بقول پاکستانی فوجیوں کو جس سفاکانہ انداز میں قتل کیا گیا یہ حکومت کے اندر اور معاشرے کے ان عناصر کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے جو اب بھی ان انتہا پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG