رسائی کے لنکس

سرحد پار سے فائرنگ میں نو افراد ہلاک، چمن سرحد بند


پاک افغان فوسرز کے درمیان ہونے والی گولہ باری سے زخمی ہونے والے ایک بچے کو اس کے رشتہ دار اسپتال لے جا رہے ہیں

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں افغان سرحد سے متصل چمن شہر کے قریب پاکستان اور افغانستان کی سرحدی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں نے اپنے اپنے دارلحکومت میں ایک دوسرے کے سفارت خانوں کے ناظم الامور کو بلا کر اس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔

ضمعے کو الصبح شروع ہونے والی اس جھڑپ میں پاکستان کے نو شہری ہلاک جب کہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

آٹھ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے، زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، واقعے کے بعد چمن کے مقام پر پاک افغان سرحد بند کر دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق ملک بھر میں جاری مردم و خانہ شماری کے سلسلے میں ایک ٹیم فرنٹیر کور بلوچستان کے اہلکاروں کی حفاظت میں سرحد پر واقع دو دیہاتوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں اپنے کام میں مصروف تھی کہ افغان سرحد ی پولیس کی طرف سے اُن پر شدید فائرنگ کی گئی جس کی زد میں آکر ایک شخص ہلاک اور ایف سی کے چار اہلکاروں سمیت 19 دوسرے زخمی ہو گئے۔

حکام کے بقول اس واقعہ کے بعد افغان سرحدی پولیس کی طرف سے چمن بازار کے قریبفرنٹیر کور بلوچستان کے کیمپ پر شدید گولہ بار ی کی گئی۔

پاک افغان فوجوں کے درمیان گولہ باری کے تبادلے میں زخمی ہونے والا ایک لڑکا
پاک افغان فوجوں کے درمیان گولہ باری کے تبادلے میں زخمی ہونے والا ایک لڑکا

متعدد گولے چمن بازار کے نواحی علاقے مشرقی بائی پاس پر واقع گھروں پر گرے، جس سے مزید پانچ افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے. زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال چمن پہنچا دیا گیا، جہاں اسپتال کے سر براہ ڈاکٹر اختر محمد نے وائس آف امر یکہ کو بتایا کہ اُنھیں ادویات کی کمی کا سامنا ہے جب کہ اس طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ماہر سرجن کی بھی کمی ہے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے مطابق سرحدی علاقے میں مردم شماری کے عمل کے بارے میں افغان حکام کو سفارتی اور عسکری ذرائع سے بہت پہلے آگاہ کیا گیا تھا لیکن فوج کے مطابق افغان سرحدی پولیس گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستان کی جانب سرحدی علاقے کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں مردم شماری کے عمل میں خلل ڈال رہی تھی۔

تقریباً 6 گھنٹے تک جاری رہنے والی گولہ باری میں افغان سرحدی پولیس کے 4 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 34 زخمی ہوئے جن عام لوگ اور 14 پولیس اہلکار شامل ہیں۔

افغان سرحدی پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرحدی حکام کو پہلے بتا دیا گیا تھا کہ سرحدی علاقوں میں آباد دونوں ممالک میں تقسیم گاﺅں میں کسی قسم کی سر گرمی سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی طرف سے وارننگ کے باوجود ان سرحدی گاﺅں میں فوج کی گاڑیوں نے داخل ہونے کی کو شش کی، جو نا کام بنا دی گئی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان لگ بھگ 2600 کلو میٹر سے زائد طویل سرحد ہے، جس کا گیارہ سو کلو میٹر سے زیادہ حصہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساتھ لگتا ہے۔

دونوں ممالک میں آمد و رفت کے لیے متعدد کراسنگ پوائنٹس ہیں لیکن چمن کا شمار مصروف سرحدی گزرگاہ کے طور پر ہوتا ہے۔

مقامی حکام کے بقول چمن بازار اور نواحی علاقوں سے روزانہ دس ہزار سے زائد افراد افغانستان جاتے اور دوسری طرف سے افغان پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔

چمن شہر اور آس پاس کے علاقوں کی آباد ی ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اتنی ہی تعداد میں لوگ افغانستان کے علاقے اسپین بولدک میں رہتے ہیں۔

سرحد کی دونوں جانب رہنے والے تقریباً نوے فیصد لوگوں کےروزگار کا دارو مدار چمن سرحد کے ذریعے کی جانے والی قانونی اور غیر قانونی تجارت سے جڑا ہوا ہے۔

فروری میں دہشت گرد حملوں کے بعد بھی پاکستان نے افغانستان سے اپنے تمام زمین راستے بند کر دیئے تھے، جو تقریبا ایک ماہ تک بند رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG