رسائی کے لنکس

چمن میں پاک افغان سرحد پر آمد و رفت بحال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

افغان حکام یہ کہتے ہیں کہ پاکستان مخالف واقعے میں شامل لوگ نہ تو افغان حکومت اور نہ ہی عوام کی ترجمانی کرتے تھے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن کے مقام پر سرحدی گزرگاہ کو 14 روز کی بندش کے بعد جمعرات کو کھول دیا گیا۔

"باب دوستی" نامی گیٹ کو پاکستان نے 18 اگست کو سرحد پار افغان علاقے میں پاکستان مخالف نعروں اور پاکستانی پرچم نذر آتش کیے جانے کے بعد 19 اگست کو بند کر دیا تھا۔

بدھ کو دونوں ملکوں کے حکام کے ہونے والے اجلاس میں "دوستی گیٹ" دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق افغان حکام کی طرف سے 18 اگست کے واقعے پر تحریری طور پر پاکستان سے معذرت کی ہے۔

دو اہم اور مصروف سرحدی راستے میں سے ایک "باب دوستی " کے کھلتے ہی سرحد کے دونوں جانب سے لوگوں اور گاڑیوں کی بڑی تعداد کی آمدورفت شروع ہو گئی ہے۔

افغان حکام یہ کہتے ہیں کہ پاکستان مخالف واقعے میں شامل لوگ نہ تو افغان حکومت اور نہ ہی عوام کی ترجمانی کرتے تھے اور یہ ایسے عناصر کی کارستانی تھی جو دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

چمن کی سرحد سے ایک اندازے کے مطابق روزانہ دس سے 15 ہزار افراد ایک سے دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں۔

دوسری اہم گزرگاہ پاکستان کے شمال مغرب میں طورخم کے مقام پر واقع ہے اور رواں سال جون میں پاکستان کی طرف سے ایک گیٹ کی تعمیر کے معاملے پر دونوں اطراف کی سکیورٹی فورسز میں مہلک جھڑپ ہونے کے بعد کئی روز تک یہ سرحد بھی بند رہی تھی۔

XS
SM
MD
LG