رسائی کے لنکس

دہشت گردوں کے خلاف افغانستان سے مکمل حمایت مل رہی ہے: چوہدری نثار


وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار (فائل فوٹو)

قومی اسمبلی میں چوہدری نثار نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان شاید پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ موثر معاونت ہو رہی ہے

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں افغانستان سے ملنے والی مدد کی ماضی قریب میں نظیر نہیں ملتی اور اُن کے بقول دوطرفہ تعاون کی تاریخ میں یہ سب سے موثر رابطے ہیں۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں ایک بیان میں چوہدری نثار نے سرحد پار افغانستان کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا سرسری ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں اسکول پر حملے کے بعد پڑوسی ملک افغانستان نے بھی اپنی جانب بھرپور کارروائیاں کی ہیں۔

’’سرحد پار کارروائی ایک سے زیادہ بار ہو چکی ہے۔ مگر کیوں کہ یہ دو ممالک کے درمیان مسئلہ ہے اس لیے ہم اس کی زیادہ تشہیر اس طرف سے نہیں کرنا چاہتے، صرف اتنا کہتا ہوں کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان شاید پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ موثر معاونت ہو رہی ہے ہمیں مکمل حمایت اور مکمل تعاون مل رہا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ایک روز قبل جمعرات کو افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے پاکستانی سرحد کے قریب اپنے صوبے ننگرہار میں ایک کارروائی میں 18 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ صوبہ سندھ کے ضلع شکار میں ہوئے خودکش بم حملے کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم اُن کہنا تھا کہ اس موقع پر تفصیلات جاری کرنا مناسب نہیں ہے۔

اُدھر جمعہ کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے انسداد دہشت گردی کا ایک قومی لائحہ عمل وضع کیا تھا جس کے تحت ملک میں کی گئی کارروائیوں میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم نواز شریف کو اپنے حالیہ دورہ چین سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ جنرل راحیل شریف گزشتہ ماہ کے اواخر میں چین کے سرکاری دورے پر گئے تھے جہاں اُنھوں نے وہاں کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کی تھی۔

چین کے وزیر خارجہ کا بھی دورہ پاکستان رواں ماہ متوقع ہے اور پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اس سلسلے میں تاریخوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG