رسائی کے لنکس

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان وفد سے ملاقات میں اُن کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جمعرات کو پاکستان کا دورہ کیا جس میں مصالحتی عمل سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔

افغان وفد میں قائم مقام وزیر دفاع معصوم ستنکزئی اور انٹیلی جنس کے سربراہ رحمت اللہ نبیل بھی شامل ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان وفد سے ملاقات میں اُن کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حالیہ دنوں میں طالبان کی طرف سے کیے گئے مہلک حملوں میں 60 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد رواں ہفتے ہی افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان کی پناہ گاہیں اب بھیپاکستان میں موجود ہیں جہاں سے وہ جنگ کے پیغامات بھیج رہے ہیں۔

اُن کے اس تنقیدی بیان کے بعد پاکستان کی طرف سے محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ خود پاکستان کو بدترین دہشت گردی کا سامنا ہے جس میں 60 ہزار سے افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ منصب صدارت سنبھالنے کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی کی طرف سے پہلی مرتبہ براہ راست پاکستان پر تنقید کی گئی۔

گزشتہ ماہ ہی پاکستان کی میزبانی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات ہوئی تھی اور اس سلسلے میں دوسری ملاقات جولائی کے اواخر میں پاکستان میں ہی ہونا تھی۔

لیکن طالبان کے سربراہ ملا عمر کے انتقال کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد بات چیت کا دوسرا دور موخر کر دیا گیا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اب بھی سمجھتا ہے کہ مصالحت ہی سب سے بہتر راستہ ہے لیکن ہم اس ضمن میں افغانستان کی ترجیحات سے رہنمائی حاصل کریں گے کیوں کہ اُن کے بقول یہ افغانوں کی زیر قیادت مصالحتی عمل ہے۔

افغان طالبان اور افغانستان کی حکومت کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں امریکہ اور چین کے نمائندوں نے بطور مبصر شرکت کی تھی۔

XS
SM
MD
LG