رسائی کے لنکس

پاک افغان ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا ’ہاٹ لائن‘ پر رابطہ


افغان سرحد سے ملحقہ چمن کے سرحدی علاقے میں جمعہ کی صبح پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ’ہاٹ لائن‘ پر بات چیت کی گئی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ایک بیان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد نے اپنے افغان ہم منصب سے گفتگو میں فائرنگ اور اس میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی۔

بیان کے مطابق میجر جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ بعض دیہات پاکستان اور افغانستان کے درمیان منقسم ہیں لیکن اُن کے بقول پاکستانی فورسز اور سویلین سرحد کی اپنی جانب ہیں۔

پاکستان کی طرف سے افغان ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز سے کہا گیا کہ افغان فورسز سرحد کی اپنی جانب رہیں اور کشیدگی میں کمی کی جائے۔

’ہاٹ لائن‘ پر رابطے کے بعد دونوں جانب کے مقامی سرحدی کمانڈروں کے درمیان ’فلیگ میٹنگ‘‘ بھی ہوئی۔ پاکستانی فوج کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ مردم شماری کی ٹیم اور اُن کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر افغان سرحدی فورسز نے جمعہ کی صبح فائرنگ کی جس کے بعد میں دیگر سرحدی علاقوں میں بھی گولہ باری کی گئی۔

افغان حکام کا موقف ہے کہ ایسے سرحدی گاؤں جن کا کچھ حصہ پاکستان اور کچھ علاقہ افغانستان میں ہے وہاں مردم شماری کو روکنے کے لیے کہا گیا تھا۔

فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد افغان سفارت خانے کے ناظم الامور کو پاکستان کی وزارت خارجہ طلب کر کے اُن سے احتجاج بھی کیا گیا۔

اس سے قبل ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں جمعہ ہی کو پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ مردم شماری سے قبل افغان حکام کو آگاہ کیا گیا تھا۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ افغان حکومت کو یہ بتایا گیا تھا کہ ان علاقوں میں مردم شماری کی جائے گی اور اُن کے بقول مقامات کی باقاعدہ نشاندہی بھی کی گئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے علاقوں میں مردم شماری کر رہا ہے اور نفیس ذکریا کہ بقول یہ اُن کے ملک کا حق ہے۔

دریں اثنا سینیٹر لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقیوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کشیدگی میں کمی کی ضرورت ہے۔

’’سیاسی بصیرت سے اس کو حل کرنا چاہیئے ہم یہ نہیں چاہتے کہ کشیدگی کو بڑھایا جائے، تو میرے خیال میں بجائے اس کے کشیدگی کو بڑھایا جائے، بیٹھ کر بھائیوں کی طرح اور سیاسی مذاکرات کے ساتھ اور ان کے سفیر کو شامل کر کے ان کی حکومت کو شامل کر کے اپنے ہمارے (پاکستان) کی وزارت خارجہ کو شامل کر کے اور مقامی سطح پر فوجی عہدیداروں کو شامل کر کے دیکھا جائے کہ کیا ہوا ہے ۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں، واضح رہے کہ پاکستان نے افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی شروع کر رکھا ہے جس پر افغانستان کو شدید تحفظات ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG