رسائی کے لنکس

آفات سے نمٹنے کے لیے افغان عہدیداروں کی پاکستان میں تربیت


اس تربیتی کورس کا مقصد قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنا، آبادی کی نقل مکانی اور ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کے لیے انتظامات کرنا بھی شامل ہے۔

پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کی طرف سے پڑوسی ملک افغانستان کے عہدیداروں کو پانچ روزہ تربیت کی فراہمی کا آغاز پیر سے اسلام آباد میں ہوا۔

افغانستان میں آفات سے نمٹنے کے لیے قائم اداروں سے وابستہ 24 افراد پاکستان آئے ہیں۔

’این ڈی ایم اے‘ کے ایک سینیئر عہدیدار بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) ساجد نعیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں ماہرین کی ایک ٹیم آفات سے نمٹنے سے متعلق اپنے تجربات سے افغان عہدیداروں کا آگاہ کرے گی۔

اس تربیتی کورس کا مقصد قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنا، آبادی کی نقل مکانی اور ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کے لیے انتظامات کرنا بھی شامل ہے۔

بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) ساجد نعیم نے کہا کہ آفات کا سامنا کسی بھی ملک کو کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے ایک دوسرے سے اس بارے میں تبادلہ خیال کے خطے پر سود مند نتائج مرتب ہوتے ہیں۔

’’پاکستان کو کیوں بہت سی آفات کا سامنا رہا، اُن میں سے بہت سی آفات ایسی ہیں (جن کو افغانستان کو بھی سامنا رہا ہے) جیسا کہ زلزلہ، سیلاب اور خشک سالی۔ تو ظاہری بات ہے کہ ہم کچھ اُن سے سیکھیں گے اور اہم اپنے تجربات سے اُنھیں آگاہ کریں گے۔‘‘

افغانستان کے وفد میں شامل جان آقا حیدری نے کہا کہ آفات سے نمٹنے کے حوالے سے پاکستان کے تجربات اُن کے ملک کے عہدیداروں کے لیے بہت مفید ہیں۔

’’ہم 24 افراد یہاں آئے ہیں، یہ تربیت ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں کو سیلاب اور زلزلے سے نمٹنے کے حوالے سے کافی تجربہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے تجربات سے سیکھتے ہوئے ہم اپنی مشکلات کو حل کر سکیں۔‘‘

اس پانچ روزہ تربیتی کورس میں اس بارے میں بھی تجربات کا تبادلہ کیا جائے گا کہ سیلاب کی صورت میں پانی کی نکاسی کیسے کی جائے جب کہ آفات کی صورت میں حفظان صحت اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے بارے میں بھی ماہرین افغان عہدیداروں کو آگاہ کریں گے۔

پاکستان کو حالیہ برسوں میں مون سون بارشوں کے موسم میں سیلابوں کا سامنا رہا ہے۔ گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے لگ بھگ 370 افراد ہلاک اور لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، جب کہ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

حکام کے مطابق گزشتہ سال کے وسط میں آنے والا سیلاب پنجاب میں کئی دہائیوں میں آنے والا سب سے زیادہ تباہ کن سیلاب رہا۔

پاکستان میں 2010ء میں آنے والے سیلاب سے ملک کے 78 اضلاع میں دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جب کہ بجلی کی پیدواری تنصیبات، اسکول، بنیادی صحت کے مراکز سمیت انتظامی ڈھانچے بھی شدید متاثر ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG