رسائی کے لنکس

افغانستان میں پرامن انتقال اقتدار کے حامی ہیں: پاکستان


پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستان کی طرف سے یہ بیان ابتدائی نتائج میں اشرف غنی کی اکثریت کے بعد اُن کے مدمقابل دوسرے افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کی طرف اسے تسلیم نہ کرنے اور اپنی فتح کا اعلان کرنے کے تناظر میں سامنا آیا ہے۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے نتائج پر سامنے آنے والے تنازع کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی طرف سے اس بارے میں ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ افغانستان میں پرامن انتقال اقتدار کی حمایت کرتا ہے۔

بدھ کو دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے خود مختار افغان الیکشن کمیشن کی طرف سے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے ابتدائی نتائج کے اعلان کو دیکھا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ حتمی نہیں ہیں۔

"ہم پرخلوص انداز میں امید کرتے ہیں کہ تمام معاملات افغانستان کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مقررہ وقت میں بات چیت کے ذریعے پرامن انداز میں حل کر لیے جائیں گے۔"

پاکستان کی طرف سے یہ بیان ابتدائی نتائج میں اشرف غنی کی اکثریت کے بعد اُن کے مدمقابل دوسرے افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کی طرف اسے تسلیم نہ کرنے اور اپنی فتح کا اعلان کرنے کے تناظر میں سامنا آیا ہے۔

عبداللہ عبداللہ نے منگل کو کابل میں اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بلاشبہ وہ ہی فاتح ہیں۔"

ان کی طرف سے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور جعلی ووٹوں سے بیلٹ باکس بھرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

امریکہ نے بھی ان کے اس بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا تھا۔

اُدھر پاکستان کی قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے چیئرمین اویس لغاری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خطے میں موجودہ صورت حال خاص طور پر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کی تیاری کے تناظر میں ضروری ہے کہ پڑوسی ملک میں پرامن انتقال اقتدار کا عمل جلد از جلد مکمل ہو۔

’’اگر الیکشن میں واقعی کوئی اس قسم کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، تو ان کا الیکشن کمیشن ہی کے پاس حل ہے۔۔۔۔ اور ہماری خواہش ہے کہ فوجوں کے (افغانستان ) سے انخلا کے وقت افغانستان کے اندر سیاسی استحکام ہو۔‘‘

پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ افغان صدارتی انتخابات کے پرامن انعقاد کی کوششوں میں اسلام آباد نے تمام ممکنہ مدد فراہم کی جس میں انتخابات کے دونوں مرحلوں کے موقع پر سرحد پر نگرانی اور سکیورٹی میں اضافہ بھی شامل ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ افغان عوام کے جمہوری انتخاب کا احترام کرے گا۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایک پرامن، متحد و مستحکم اور خوشحال افغانستان خطے میں استحکام اور امن کے لیے لازمی ہے۔

"اس نازک موڑ پر جب افغانستان میں مختلف تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں پاکستان افغان بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی پر قائم ہے۔ ہم ان تمام اقدامات کی حمایت کریں گے جو افغانستان میں ترقی و استحکام اور امن کے مقصد کے حصول کے لیے کیے جائیں گے۔"

XS
SM
MD
LG