رسائی کے لنکس

پاکستان کا کوئی پسندیدہ گروپ نہیں: ترجمان

  • قمرعباس جعفری

Moazzam Ahmad Khan Foreign Office Spokesman

Moazzam Ahmad Khan Foreign Office Spokesman

’پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ افہام و تفہیم کا عمل خود افغانوں کا ہونا چاہیئے اورپاکستان جو بھی مدد کر سکتا ہے وہ ضرور کرے گا‘: معظم احمد خان

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’اِن دی نیوز‘ کو بتایا ہے کہ افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کا وفد صلاح الدین ربانی کی قیادت میں پاکستان کا دورہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی دعوت پر کر رہا ہے۔

معظم احمد خان کا کہنا تھا کہ اِسی دورے میں افغانستان کے افہام و تفہیم کے مسئلے پر بات ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ افہام و تفہیم کا عمل خود افغانوں کا ہونا چاہیئے اورپاکستان جو بھی مدد کر سکتا ہے وہ ضرور کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ یہ تصور غلط ہے کہ کوئی افغان گروپ پاکستان کا پسندیدہ یا ناپسندیدہ ہے۔

پاکستان بارہا یہ واضح کرچکا ہے کہ اس کے تمام افغان گروپ برابر ہیں اور وہ تمام گروپوں سے یہ کہتا رہا ہے کہ سب مل کر افہام و تفہیم کے عمل کو آگے بڑھائیں۔

ملالہ پر حملے کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ اُن کے بارے میں پاکستان افغان حکومت اور بین الاقوامی افواج کو معلومات فراہم کر رہا ہے اور توقع کرتا ہے کہ حکومت افغان جلد ہی اس سلسلے میں کارروائی کرے گی۔

تاہم، افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شام مہمند نے اسی پروگرام میں کہا کہ افغان صدر ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے اسی سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG