رسائی کے لنکس

آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان سے مطلوبہ تعاون نہیں ملا: فوج

  • شمیم شاہد

میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ

میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ

عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا اور یہاں دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف ’بلا امتیاز‘ کارروائیاں جاری ہیں لیکن اس کے لیے پڑوسی ملک افغانستان سے درکار تعاون حاصل نہیں ہوا۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بدھ کو پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں 15 جون کو فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع کرنے سے قبل افغان حکام سمیت وہاں بین الاقوامی اتحادی افواج کو بھی اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔

"ہر سطح پر افغانستان کو بتایا گیا کہ ضرب عضب شروع ہونے جا رہا ہے۔ میں کھل کر کہوں گا کہ وہاں سے تعاون کہیں نظر نہیں مسائل ہیں۔ کنڑ اور نورستان میں فضل اللہ اور اس کے ساتھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کیمپ لگائے ہوئے ہیں، وہاں سے کارروائی کی اطلاعات بھی آتی ہیں۔ لیکن آپ مجھ سے پوچھیں کیا کیا ایکشن لیا گیا کہ ان کی کارکردی ختم ہوجائے یا ان کو پکڑا جائے مارا جائے یا پاکستان کے حوالے کیا جائے تو ایسی کوئی چیز نہیں ہوئی۔‘‘

پاکستانی فوج کے ترجمان کے اس تازہ بیان پر تاحال افغانستان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن ماضی میں افغان عہدیدار یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ شدت پسند سرحد پار پاکستانی سرزمین سے ان کے ہاں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے پاکستان کو موثر اقدامات کرنے چاہیئں۔

عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا اور یہاں دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز نے شمالی وزیرستان میں ایک بڑے حصے کو دہشت گردوں سے پاک کردیا ہے اور وہاں ٹنوں کے حساب سے برآمد ہونے والے گولہ بارود کے ذخیرے کو ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔

فوج کے ترجمان کے بقول اب تک 1100 سے زائد ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ رواں ماہ ہی افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی ’خیبر ون‘ کے نام سے فوجی کارروائی کا آغاز ہوا، جس میں اب تک درجنوں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

قبائلی علاقوں سے ملحقہ خیبر پختونخواہ میں افغان موبائل فون سروس کے استعمال سے متعلق فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سرحد کے قریب لگے موبائل فون ٹاور پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

"سیاسی سطح پر حکومت نے افغان عہدیداروں کو یہ بتایا کہ یہ جو ٹاورز لگے ہوئے ہیں افغانستان میں ہماری سرحد کے ساتھ اُدھر سے سگنل آتے ہیں ہمارے علاقے مں جس سے افغان سمز استعمال ہوسکتی ہیں اور یہ ہماری سکیورٹی کو بہت بڑا خطرہ ہے اس کو چیک کیا جائے۔ کچھ ٹاور کی ان کو جگہ تبدیل کرنا پڑے گی کچھ کو بند کرنا پڑے گا لیکن جب تک افغان سائیڈ سے یہ ایکشن نہیں لیا جائے گا تو سگنل ادھر آتا رہے گا۔"

شمالی وزیرستان سے فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کر کے آنے والے لاکھوں افراد کی اپنے علاقوں کو واپسی سے متعلق فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ تو نہیں دی جا سکتی لیکن جیسے ہی حالات موزوں ہوں گے ان لوگوں کی اپنے علاقوں میں واپسی شروع کر دی جائے گی۔

نقل مکانی کرکے آنے والے تقریباً چھ لاکھ سے زائد افراد صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں عارضی طور پر مقیم ہیں اور شمالی وزیرستان میں متعدد علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کروائے جانے کے سرکاری دعوؤں کے بعد ان لوگوں میں اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے اضطراب پایا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG