رسائی کے لنکس

پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان کے تین ہزار طالب علموں کو تعلیمی وظائف فراہم کرنے کے پروگرام کے تحت 2255 افغان طالب علموں کو اسکالر شپ فراہم کی جا چکی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کا دسواں اجلاس پیر کو اسلام آباد میں ہوا، جس میں دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔

اس دور روزہ اجلاس میں افغان وفد کی قیادت افغانستان کے وزیر خزانہ عقلیل احمد حکیمی جب کہ پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں۔

مشترکہ اقتصادی کمیشن کا یہ اجلاس رواں سال اگست میں ہونا تھا لیکن اس کو موخر کر دیا گیا کیوں کہ طالبان کے رہنما ملا عمر کی ہلاکت کی خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد افغان امن مذاکرات کا عمل ملتوی ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔

اسلام آباد میں ہونے والے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں افغان صدر اشرف غنی کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر دوطرفہ تجارتی روابط کے فروغ کے ضمن میں جن اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا، اُن میں سے بیشتر پر عمل درآمد ہو چکا ہے، تاہم اُنھوں نے اعتراف کیا کہ کچھ فیصلوں پر عمل درآمد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے جس پر دونوں جانب کے ماہرین غور کریں گے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم کافی کم ہے اور اُن کے بقول پاکستان اور افغانستان کو یکسوئی کے ساتھ 2017ء تک دوطرفہ تجارت کے حجم کو پانچ ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے ترجیحی تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کا خواہشمند ہے اور اس کے لیے افغان حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔

پاکستانی وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ دوطرفہ تجارت میں اُس وقت تک اضافہ ممکن نہیں جب کہ دونوں جانب کے کاروباری افراد کے مابین رابطوں کو یقینی بنانے کے لیے سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔

اسحاق ڈار کے بقول اس کے لیے افغانستان کو ویزوں کے اجراء میں نرمی پر غور کرنا ہو گا اور اُن کے بقول پاکستان بھی ایسا ہی کرے گا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی مسرت سے یہ اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان کے تین ہزار طالب علموں کو تعلیمی وظائف فراہم کرنے کے پروگرام کے تحت 2255 افغان طالب علموں کو اسکالرشپ فراہم کی جا چکی ہے اور وہ میڈیکل، انجئینرنگ اور دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

جب کہ دیگر طالب علموں کو پاکستان کے مالی سال 16-2015 میں تعلیمی وظائف فراہم کیے جائیں گے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 295 افغان طالب علم 2014 میں پاکستان میں اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں جب کہ دسمبر 2015 تک مزید 305 افغان طالب علم اپنی تعلیم مکمل کر لیں گے۔

اُنھوں نے اس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ یہ افغان طالب علم پاکستان کے لیے خیر سگالی کے سفیر ثابت ہوں گے۔

افغان وزیر خزانہ عقلیل احمد حکیمی نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کی موجودہ حد اُس ہدف سے کہیں کم ہے جس کے حصول کی صلاحیت دونوں ممالک رکھتے ہیں۔

عقلیل احمد حکیمی کا کہنا تھا کہ اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے وہ پاکستانی ہم منصب کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کے لیے تیار ہیں جس سے الفاظ کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

اُنھوں نے کہا کہ اقتصادی روابط کو وسعت دینے کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان تواتر سے براہ راست یا ویڈیو لنک کے ذریعے روابط کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG