رسائی کے لنکس

برطانیہ اور پاکستان کا افغانستان کی حمایت جاری رکھنے کا عزم


پاکستان اور برطانیہ کے وزرائے اعظم

پاکستان اور برطانیہ کے وزرائے اعظم

مبصرین کا کہنا ہے کہ لندن میں ہونے والی کانفرنس اور بعد ازاں پاک افغان قیادت کی ملاقاتوں سے دوطرفہ تعلقات میں اعتماد سازی کو فروغ تو حاصل ہوگا لیکن اس سے فوری طور پر کسی مثبت نتیجے کی امیدیں لگانا مناسب نہیں۔

پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے بھی افغانستان کی مدد جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف ان دنوں لندن میں ہیں جہاں انھوں نے افغانستان سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔

جمعہ کو انھوں نے ڈیوڈ کیمرون اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ لندن میں ملاقات کی جس میں تینوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورتحال سمیت خطے کی مجموعی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور بارے تبادلہ خیال کیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ملاقات کے دوران کہا کہ ایک مستحکم، خوشحال اور جمہوری افغانستان خود پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے اور ان کا ملک افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہیں۔

افغان صدر برطانوی اور پاکستانی وزرائے اعظم کے ہمراہ

افغان صدر برطانوی اور پاکستانی وزرائے اعظم کے ہمراہ

افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کے بعد صدر بننے والے اشرف غنی نے لندن کانفرنس میں اپنے ملک میں ترقی و سلامتی سے متعلق اپنے تصور کا خاکہ پیش کیا اور بین الاقوامی برادری سے کہا کہ وہ اس عمل میں اس کا ساتھ دے۔

اس موقع پر پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ افغان حکومت کے ملک کی ترقی و خودانحصاری کی حکمت عملی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

"ہم پیش رفت کے افغان حکومت کے تصور اور اصلاحاتی پروگرام بشمول، معیشت کی مضبوطی، طرز حکمرانی، قانون کی بالادستی اور خطے کے ساتھ منسلک ہو کر خود انحصاری کی منزل پانے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔

دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات شروع ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار چلے آئے ہیں جب کہ سابق صدر حامد کرزئی کے دور میں تعلقات میں زیادہ تر تناؤ غالب رہا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ لندن میں ہونے والی کانفرنس اور بعد ازاں پاک افغان قیادت کی ملاقاتوں سے دوطرفہ تعلقات میں اعتماد سازی کو فروغ تو حاصل ہوگا لیکن اس سے فوری طور پر کسی مثبت نتیجے کی امیدیں لگانا مناسب نہیں۔

افغان امور کے ماہر اور کابل میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اشرف غنی کے افغان صدر بننے کے بعد دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں آغاز کو اچھا قرار دیا جاسکتا ہے لیکن جب تک افغانستان میں حالات معمول پر نہیں آتے کسی ٹھوس پیش رفت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

"اصل میں بات یہ ہے کہ جب تک وہاں جنگ جاری ہے تو پاکستان اور افغانستان پوری طرح اپنے تعلقات کی صلاحیتیں بروئے کار نہیں لا سکیں گے۔۔۔بات صدر کرزئی یا صدر اشرف غنی کی نہیں وہاں تنازع ہے تو جب تک افغانوں میں اپنی سطح پر مصالحت کی طرف قدم نہیں بڑھے گا تو بیرونی دنیا والے اس میں زیادہ کردار ادا نہین کر سکتے۔"

رواں ماہ کے اواخر تک افغانستان سے 13 سال بعد غیر ملکی افواج کی اکثریت کا انخلا مکمل ہونے جا رہا ہے لیکن حالیہ مہینوں میں یہاں ایک بار پھر طالبان کی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امریکہ نے افغانستان کے ساتھ ایک دوطرفہ سکیورٹی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت 2014ء کے بعد بھی نو ہزار سے زائد امریکی فوجی یہاں رہ کر افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کریں گے۔

لندن کانفرنس میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھی شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اپنے منصوبوں بشمول انسانی حقوق میں بہتری اور اقتصادی خوشحالی پر عمل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ مزید افغانوں کو انتہا پسندی سے دور کے لیے قائل کر سکے گی۔

وزیراعظم نواز شریف کی امریکی وزریر خارجہ کیری سے ملاقات

وزیراعظم نواز شریف کی امریکی وزریر خارجہ کیری سے ملاقات

جان کیری کی پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات ہوئی جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وزیراعطم نے امریکی وزیرخارجہ کو بتایا کہ ان کی حکومت افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں حالیہ ہفتوں میں افغانستان کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG