رسائی کے لنکس

بڈھ بیر حملے کے شواہد افغانستان کو دیں گے: پرویز رشید


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششوں سے دہشت گردی کو کسی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے مکمل خاتمے کے لیے ہمسایہ ملک اور عالمی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ دو روز پہلے اپنے ایک فضائی کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کے شواہد کابل کو فراہم کرے گی۔

اتوار کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششوں سے دہشت گردی کو کسی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے مکمل خاتمے کے لیے ہمسایہ ملک اور عالمی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ دشمن ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مل کر ہی کام کرنا ہو گا۔

"جو حالیہ واقعہ ہوا ہے اس میں جو شواہد ملے ہیں۔۔۔ان شواہد کو افغانستان کی حکومت کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا تاکہ وہ بھی ان عناصر سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔"

جمعہ کو فضائیہ کے کیمپ پر ہونے والے حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 13 حملہ آور کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

ہفتہ کو دیر گئے افغانستان نے اس حملے میں اپنی سرزمین استعمال ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان نے کبھی اپنی سرزمین دوسری ریاستوں کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دی ہے نہ کبھی دے گا۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے ہاں قانون سازی کی ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے والی کی شہریت ختم کر دی جائے گی اور اسے پاکستان کا دشمن تصور کیا جائے گا۔ ان کے بقول دنیا کے تمام ملکوں کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے تعاون کرنا چاہیئے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو شکوک و شبہات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے تعلقات کے بارے میں مزید سنجیدہ ہونا پڑے گا تاکہ صورتحال کا فائدہ کوئی تیسری قوت نہ اٹھا سکے۔

قبائلی علاقوں کے سابق سیکرٹری اور سلامتی کے امور کے ماہر محمود شاہ کہتے ہیں کہ افغان صدر اشرف غنی بنیادی طور پر سیاستدان نہیں ہیں اور انھیں چاہیئے کہ وہ خطے کی سیاست کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے ہاں ایسے حلقوں سے احتراز کریں جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر آتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

"پاکستان نے ایک بہت بڑا موقع ان کو مہیا کیا ہے کہ پہلی بار افغانستان کی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے اور اس سے وہ (صدر اشرف غنی) سیاسی فائدہ حاصل نہ کر سکے اور جو ان کے مخالفین ہیں ان پر حاوی ہو گئے ہیں۔ اشرف غنی صاحب سیاست دان ہیں نہیں اور نہ یہ سیاسی فائدہ اٹھا سکتے ہیں کسی موقع کا اور پاکستان مخالف جو حلقے ہیں کابل میں ان کا ہی موقف زیادہ تر آج کل رائج ہے اس کا کچھ کرنا چاہیئے۔"

دریں اثنا اتوار کو حکام نے بڈھ بیر فضائی کیمپ پر حملے میں ملوث پانچ مشتبہ دہشت گردوں کی شناخت ذرائع ابلاغ کو جاری کیں جس کے مطابق ان میں سے دو کا تعلق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور تین کا سوات سے ہے۔

اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کی شناخت کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائیاں کرتے ہوئے ان شدت پسندوں سے منسلک بعض افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

XS
SM
MD
LG