رسائی کے لنکس

افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں: پاکستان

  • شہناز نفیس

افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں: پاکستان

افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں: پاکستان

افغانستان کی جنگ کے حوالے سے ‘وکی لیکس’ نامی ویب سائٹ جو دستاویزات منظرِ عام پر لائی ہےاور جن میں پاکستان کی سراغ رساں ایجنسی آئی ایس آئی پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ طور پر اعانت کرتی رہی ہے، اُنھیں پاکستان نے بالکل بے بنیاد قرار دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اِن دستاویزات کا معروضی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان عبد الباسط نے اُنھیں قیاس آرائیوں اورافواہوں سےتعبیر کیا۔


وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے پروگرام ‘راؤنڈ ٹیبل’ میں عبدالباسط نے اِس جانب توجہ دلائی کہ افغان تنازعے کے سبب پاکستان کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن اور استحکام آئے۔

عبد الباسط نےکہا کہ اِس بات میں کوئی منطق نظر نہیں آتی کہ حکومت ِ پاکستان یا اُس کے ادارے، خاص طور پر آئی ایس آئی، کسی ایسی چیزوں میں ملوث ہے جن کے حوالے سے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے ہماری حکومت، آئی ایس آئی اور مختلف ایجنسیوں کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ یہ باتیں افغانستان میں ہماری مثبت کوششوں میں کمی نہیں لا سکتیں۔

اُنھوں نے یاد دلایا کہ پاکستان افغانستان کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیےاس وقت 330ملین ڈالر کی امداد دے رہا ہے۔

اِن دستاویزات کے جاری ہونے کے بعد پاکستان اور امریکہ کی شراکت داری پر ممکنہ اثرات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عبد الباسط نے کہا کہ گذشتہ دو برس کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان طویل المیعاد بنیاد پر شراکت داری قائم ہوئی ہے اور ہم چاہیں گے کہ اس بے بنیاد رپورٹ سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہمارے جاری تعاون میں کوئی فرق نہ پڑے۔

XS
SM
MD
LG