رسائی کے لنکس

افغانستان میں امن عمل کی بحالی پر سب متفق ہیں: سرتاج عزیز

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں امن مذاکرات اس وقت دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو اس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان میں مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے چار رکنی ’سٹیئرنگ کمیٹی‘ بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے جس میں پاکستان اور افغانستان کے علاوہ چین اور امریکہ کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

انہوں نے اسلام آباد میں رواں ہفتے افغانستان سے متعلق ہونے والی ’ہارٹ ایشیا کانفرنس‘ کے بارے میں قومی اسمبلی میں جمعہ کو ایک پالیسی بیان دیا اور قانون سازوں کو اعتماد میں لیا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں ہونے والی بات چیت کے علاوہ اس موقع پر پاکستان آنے والے متعدد وزرائے خارجہ اور افغان صدر کی پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقاتیں بہت اہم تھیں۔

ان ملاقاتوں میں افغانستان میں سلامتی کی صورتحال، پاک افغان تعلقات میں بہتری اور افغانستان میں مفاہمت کے عمل کی بحالی اہم موضوعات تھے۔

انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف اور صدر اشرف غنی کی دوطرفہ ملاقات کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے امریکہ اور چین کے ساتھ علیحدہ علیحدہ اجلاسوں اور بعد میں ان چاروں ممالک کے مشترکہ اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریق اس بات پر متفق تھے کہ افغانستان میں امن لانا پورے خطے کے لیے بہت ضروری ہو گیا ہے اور اس کی ذمہ داری صرف افغانستان اور پاکستان پر ڈالنے کی بجائے مل کر کوشش کرنی چاہیئے۔

یاد رہے کہ جولائی میں افغان حکومت کے طالبان نمائندوں کے ساتھ پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور چین کے نمائندے مبصرین کی حیثیت سے شریک تھے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں امن مذاکرات اس وقت دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو اس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔

’’اس وقت یہ کہنا پیش از وقت ہے کہ ’مری ٹو‘ یعنی افغان امن مذاکرات کا تسلسل یا بحالی کب ہو گی۔ لیکن کم از کم آنے والے دنوں میں مشاورت کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اور اس وقت کیوں کہ لڑائی میں کچھ ٹھہراؤ ہے تو یہ بہت اچھا موقع ہے کہ اگر امن مذاکرات شروع ہوں تو اُن کا خاطر خواہ نتیجہ نکل سکتا ہے۔‘‘

دریں اثناء افغان صدر اشرف غنی نے جمعہ کو کہا کہ بات چیت کے حامی طالبان سے سنجیدہ مصالحتی مذاکرات جلد شروع ہوں گے اور کسی نتیجے تک پہنچیں گے۔


تاہم اُنھوں نے اس بارے میں کسی طرح کے نظام الاوقات کا ذکر نہیں کیا۔

کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ مفاہمت پر یقین رکھنے والے طالبان کو اصولوں کی بنیاد پر حکومت قبول کرے گی لیکن اُن کے خلاف لڑائی کی جائے گی جو تشدد کی راہ ترک کرنے سے انکار کریں گے۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر امریکی نائب وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے افغانستان میں امن کے عمل کو جلد بحال کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل اور پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن بھی شریک تھے۔

XS
SM
MD
LG