رسائی کے لنکس

افغان امن عمل کی جانب پیش رفت متوقع ہے: سرتاج عزیز


مشیر خارجہ سرتاج عزیز

مشیر خارجہ سرتاج عزیز

سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان حکومت پہلے ہی کئی بار طالبان کو یہ دعوت دے چکی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ افغان مصالحتی عمل میں آئندہ آنے والے دنوں میں کچھ پیش رفت ممکن ہے۔

اُنھوں نے یہ بات پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہمینڈ کے ساتھ اسلام آباد میں منگل کو ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی۔

جب کہ پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی برطانوی وزیر خارجہ کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ اسلام آباد اب بھی نازک افغان امن عمل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

افغان طالبان کی طرف سے امن مذاکرات میں شرکت سے انکار کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان طالبان کو سمجھنا چاہیئے کہ مذاکرات کی صورت میں تو اُن کی شرائط مانی جا سکتی ہیں لیکن بات چیت کے عمل سے قبل ایسا ممکن نہیں۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان حکومت پہلے ہی کئی بار طالبان کو یہ دعوت دے چکی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔

’’مجھے اُمید ہے کہ آنے والے دنوں میں کسی نا کسی سطح پر یہ عمل شروع ہو گا۔ جب یہ عمل شروع ہوا تو مجھے یقین ہے کہ اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی آئے گی۔‘‘

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات مارچ کے پہلے ہفتے میں متوقع تھے، لیکن گزشتہ ہفتہ کے روز افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ ملک سے بین الاقوامی افواج کے مکمل انخلا تک طالبان بات چیت کے عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔

اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ اُن کا ملک چاہتا ہے کہ طالبان مذاکرات میں شریک ہوں تاہم اُن کے بقول اگر ایسا نا ہوا تو افغان اور امریکی فورسز کو موسم بہار اور موسم گرما میں بڑھتے ہوئے تشدد کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کے نمائندوں پر مشتمل چار فریقی گروپ کے ایک اجلاس کے بعد حکام نے کہا تھا کہ مارچ کے اوائل میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات متوقع ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں افغان حکومت اور طالبان ہی فریق ہیں جب کہ دیگر تین ممالک پاکستان، امریکہ اور چین کا کردار سہولت کار کا ہے۔

سرتاج عزیز نے منگل کو کہا کہ تینوں ممالک مشترکہ ذمہ داری کے تحت اپنے اپنے ذرائع سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوشش کریں گے کہ وہ اس ضمن میں کیا کر سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG