رسائی کے لنکس

قیامِ امن کی کوششیں ترک نہیں کریں گے: افغان سفیر


پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال

پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال

اسلام آباد میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد جمعرات کی شب وائس آف امریکہ سے گفتگو میں افغان سفیر نے کہا ہے کہ اُن کا ملک امن کے حصول کے لیے کوششیں ترک نہیں کرے گا۔

پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے تشدد کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بدقسمت ہیں اور اُن کے بقول اس طرح کی کارروائیوں سے شہریوں کے جانی نقصان میں اضافہ ہو گا۔

اسلام آباد میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد جمعرات کی شب وائس آف امریکہ سے گفتگو میں افغان سفیر نے کہا ہے کہ اُن کا ملک امن کے حصول کے لیے کوششیں ترک نہیں کرے گا۔

افغان سفیر نے کہا کہ ’’ہم امن کے لیے کوششیں ختم نہیں کریں گے، امن ہی بالآخر آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔‘‘

افغان سفیر کا کہنا تھا کہ طالبان شاید موسم بہار میں ایک اور کوشش کرنا چاہتے ہیں اور اُن کے بقول شاید طالبان یہ اُمید کر رہے ہیں کہ وہ طاقت کے ذریعے کابل میں آ جائیں گے ’’لیکن ایسا نہیں ہو گا‘‘۔

واضح رہے کہ طالبان کی ان ہی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی کوششیں تاحال سودمند ثابت نہیں ہوئی ہیں۔

افغانستان میں مصالحت کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے رواں سال کے اوائل میں چار ملکی گروپ تشکیل دیا گیا تھا جس میں افغانستان اور پاکستان کے علاوہ امریکہ اور چین بھی شامل ہیں۔

چار ملکی گروپ کا چوتھا اجلاس فروری کے اواخر میں کابل میں ہوا تھا جس میں اس اُمید کا اظہار کیا گیا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات مارچ کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں، جس کے بعد فوراً بعد چار ملکی گروپ کے نمائندوں کا پانچواں اجلاس ہو گا۔

لیکن اب جب کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جلد مذاکرات بظاہر متوقع نہیں ہیں، اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ چار ملکی گروپ کا ایک اجلاس رواں ماہ ہو سکتا ہے۔

تاہم باضابطہ طور پر اس بارے میں کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کے مطابق چار ملکی گروپ میں شامل ممالک کو جب ضرورت ہو گی تو باہمی اتفاق رائے سے آئندہ اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں امن و مصالحت کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔

اُدھر توقع کی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری ہفتہ کو کابل کو دورہ کریں گے جہاں وہ امن و امان کی صورت حال کے علاوہ ممکنہ طور پر مصالحتی عمل پر بھی افغان قیادت سے تبادلہ خیال کریں گے۔

XS
SM
MD
LG