رسائی کے لنکس

طارق فاطمی نے کہا کہ طالبان کے نمائندوں اور افغان عہدیداروں کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کا پہلا دور ایک اہم سنگ میل تھا۔

پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات کا عمل جلد دوبارہ شروع ہو سکے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے نائب نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹاڈامچی یاماموٹو سے ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے افغان امن مذاکرات جلد دوبارہ بحال ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور طالبان کے نمائندوں اور افغان عہدیداروں کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کا پہلا دور ایک اہم سنگ میل تھا۔

جولائی کے اوائل میں پاکستان کی معاونت سے افغان حکومت کے نمائندوں اور افغان طالبان کے ایک وفد کے درمیان امن مذاکرات کا باقاعدہ آغاز اسلام آباد کے قریب واقع سیاحتی مقام مری میں ہوا۔

بات چیت کے اس دور میں امریکہ اور چین کے نمائندے بھی شریک تھے اور فریقین نے قیام امن کے لیے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مذاکرات کا دوسرا دور گزشتہ ہفتے پاکستان ہی میں ہونا تھا، لیکن طالبان رہنما ملا عمر کی موت کی تصدیق ہونے کے بعد اسے مؤخر کر دیا گیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق طالبان کی درخواست پر 31 جولائی کو متوقع مذاکرات موخر کیے گئے۔

طالبان کے مختلف دھڑوں میں ملا عمر کے جان نشین کے انتخاب اور مذاکرات کے عمل کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اسی ہفتے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ سید طیب آغا نے ملا اختر منصور کے بطور طالبان امیر انتخاب پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ان کی جگہ ایک سینیئر طالبان رہنما شیر محمد عباس ستنکزئی نے قطر میں سیاسی دفتر کے قائم مقام سربراہ کا عہدہ سنبھال لیا ہے اور نئے امیر ملا اختر منصور سے وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

حالیہ دنوں میں طالبان کے ترجمان کی طرف سے بیانات میں اپنے حامیوں سے یہ کہا گیا کہ وہ اختلافات سے متعلق خبروں پر دھیان نا دیں اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

طالبان کے درمیان باہمی اختلافات کی انہی اطلاعات کے باعث امن مذاکرات کے عمل کے بارے میں شکوک و شہبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

افغان طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور کے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ مذاکرات کے حامی ہیں لیکن مبصرین کا ماننا ہے تنظیم میں آپسی اختلافات کے باعث تمام طالبان رہنماؤں کو کسی ایک موقف پر متفق کرنا اُن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں اسلام آباد اور کابل کا دورہ کرنے والے امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان ڈینئیل فیلڈ مین نے بھی اس اُمید کا اظہار کیا تھا کہ طالبان جلد امن مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات کے ذریعے اپنے ملک میں امن کے قیام اور سیاسی دھارے میں شامل ہونے کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان حکومت سے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے۔

اُدھر منگل کو پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات علاقے میں امن کا واحد قابل اعتماد راستہ ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل راحیل شریف نے یہ بات کور کمانڈرز کے ایک اجلاس میں کہی جس میں ملک کی سلامتی کی صورتحال کے علاوہ افغان امن مذاکرات پر بھی غور کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG