رسائی کے لنکس

موسم سرما میں افغان امن مذاکرات کی بحالی ممکن ہے: سرتاج عزیز


سرتاج عزیز نے کہا کہ سرحد کی نگرانی کے معاملے پر افغانستان سے مکمل تعاون کیا جا رہا ہے اور جب بھی پاکستانی سرزمین پر کوئی سرگرمی ہوتی ہے تو اس سے افغان حکام کو بھی آگاہ کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور عسکریت پسندی کا خاتمہ بات چیت ہی سے ممکن ہے اور اُن کے بقول موسم سرما میں مذاکرات کی بحالی ممکن ہے۔

سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ سرحد کی نگرانی کے معاملے پر افغانستان سے مکمل تعاون کیا جا رہا ہے اور جب بھی پاکستانی سرزمین پر کوئی سرگرمی ہوتی ہے تو اس سے افغان حکام کو بھی آگاہ کر دیا جاتا ہے۔

’’ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ سرحد کے حوالے سے اُن (افغانستان) سے تعاون کریں۔ ہمارے ہاں سے جو سرگرمی ہوتی ہے اُس کی اطلاع اُن کو دے دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی طرف سے سرحد کی نگرانی کریں۔ لیکن اس معاملے کا حل یہ ہی ہے کہ بات چیت دوبارہ شروع ہو۔‘‘

سرتاج عزیز نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی کارروائی میں شدت کے بعد پڑوسی ملک میں یقیناً تشویش ہے کہ کیسے اس معاملے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ موسم سرما کے آغاز کے بعد افغانستان میں عسکریت پسندی کم ہو گی اور اس دوران بات چیت کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔

’’افغانستان نے ہی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اُدھر ملا عمر کے انتقال کے بعد طالبان کی قیادت کی منتقلی کا عمل ہو رہا ہے۔ تو ہمیں اُمید ہے کہ آئندہ چار چھ ہفتوں میں جب موسم سرما شروع ہو گا تو لڑائی کم ہو جائے۔ وہ موقع ہو گا، مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا، اُسی سے امن کا کوئی نا کوئی راستہ نکلے گا۔‘‘

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ رواں سال جولائی کے اوائل میں پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے عمل کی میزبانی کی۔

مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد سے محض دو روز قبل ہی یہ خبر منظر عام پر آ گئی کہ طالبان کے سربراہ ملا عمر کا انتقال ہو گیا ہے جس کے بعد بات چیت کا عمل غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گیا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن و سلامتی میں کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان نے بہت محنت کی۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی یہ خواہش تھی کہ طالبان کے ساتھ اُن کی بات چیت مخفی نا ہو۔۔ اُن کے بقول طالبان اس بات پر پہلے آمادہ نہیں تھے لیکن اُنھیں اس پر قائل کیا گیا۔

پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک افغانستان میں مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اُنھوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

اُدھر افغان قیادت کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات میں پاکستان کے کسی بھی ممکنہ کردار پر اُسی صورت آمادہ ہوں گے جب پاکستان اپنی سرزمین پر طالبان کی مبینہ پناہ گاہوں کو ختم کرے گا۔

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کی طرف سے افغان امن عمل میں کردار ادا کرنے کی خواہش کا خیر مقدم کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی (نیت نیتی ثابت) کرنے کے لیے طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی حمایت بند کرے۔

تاہم پاکستان کی طرف سے بار ہا یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

XS
SM
MD
LG