رسائی کے لنکس

انسداد دہشت گردی کی پاکستانی مہم قابل تحسین


انسداد دہشت گردی کی پاکستانی مہم قابل تحسین

انسداد دہشت گردی کی پاکستانی مہم قابل تحسین

افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے سربراہ نے انسدادِ دہشت گردی کی پاکستان کی” متاثر کن“ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد کی دونوں جانب مزید ہم پلہ فوجی آپریشن کیے جائیں گے۔

امریکی جنر ل ڈیوڈ پیٹریاس نے ہفتہ کی شب اے پی نیوز ایجنسی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں اطراف پہلے ہی اس طرح کے آپریشن جاری ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کو کو اس بات کا احساس ہے کہ قبائلی علاقوں میں”فوجی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے اور ہم اُن کارروائیوں میں مدد کے لیے اُن کے ساتھ تعاون کریں گے۔“

لیکن جنرل پیٹریاس کا اصرار تھا کہ گذشتہ 22 مہینوں کے دوران مختلف عسکری تنظیموں کے خلاف وادیء سوات، صوبہ خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں کیے گئے آپریشن نمایاں اور قابل تعریف ہیں۔”اور اس عرصے کے دوران انھیں اہم فوجی اور سویلین جانی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔“

پاکستان کو اس سلسلے میں تازہ ترین جانی نقصان ہفتہ کو اُس وقت ہوا جب ایک برقع پوش خودکش بمبار نے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے باجوڑ میں عالمی ادارہء خوراک کے ایک امدادی مرکز کے باہر کارروائی کر کے کم ازکم 45 افراد کو ہلاک اوردرجنوں کو زخمی کردیا۔

امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

جنرل پیٹریاس نے پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان سمیت دوسرے علاقوں میں فوجی آپریشن شروع کرنے سے پہلے اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے جو امریکی جنرل کے بقول کسی بھی فوجی حکمت عملی کا اولین اصول ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی افواج نے خصوصاََپچھلے دو مہینوں کے دوران قریبی تعاون برقرار رکھا ہے اور وہ اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ دونوں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان روان ماہ اب تک دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں سے ایک کابل اور دوسری اسلام آباد میں ہوئی تھی۔

انٹرویو میں جنرل پیٹریاس نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران افغانستان میں طالبان شدت پسندوں نے ملک کے شمالی علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ افغان وزارت داخلہ، افغان فوج اور نیٹو نے طالبان کی اس پیش قدمی کا رخ موڑنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

غیر ملکی افواج کے کمانڈر کا اصرار تھا کہ شمالی افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی مہم کی کامیابی کو تقویت دینے کے لیے مضبوط مقامی انتظامیہ کا قیام انتہائی اہم ہے۔

XS
SM
MD
LG