رسائی کے لنکس

پاکستان اپنے مسائل کوبہتر سمجھتا ہے: حسین حقانی


پاکستان اپنے مسائل کوبہتر سمجھتا ہے: حسین حقانی

پاکستان اپنے مسائل کوبہتر سمجھتا ہے: حسین حقانی

گذشتہ دو برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی انٹیلی جنس کے سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اور آئی ایس آئی پر طالبان کی جانب سے کیے جانے والے یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ آئی ایس آئی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔

پاکستان ایک طرف جہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے وہاں اسے اس جنگ کے باعث اندورن ملک دہشت گردی کی کارروائیوں کے باعث بھاری پیمانے پر اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑرہاہے۔ اس سال موسم گرما میں آنے والی تاریخ کے سب سے بڑے سیلابوں کی وجہ سے اس کے دوکروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور معیشت کو بھاری دھچکا لگا۔

اس موقع پر امریکہ نے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ پاکستانی کی مدد کی مگر اب امریکی حکومت اور ماہرین کا کہناہے کہ پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف بیرونی امداد پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے وسائل پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اسی سلسلے میں واشنگٹن میں ہونے والے سوال جواب کے ایک پروگرام میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی بھی شریک تھے اور انہوں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی میں امریکہ کو پاکستان کا دوست اور پاکستان اور امریکہ کو اہم اتحادی قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان زیادہ بہتر انداز سے سمجھتا ہے کہ اس کے مسائل کیا ہیں اور اسے ان سے کیسے نمٹنا ہے۔

پاکستانی سفیر حسین حقانی کا کہناتھا کہ ہم اپنے اتحادیوں کی بات سننے کی کوشش کرتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ ہمیں بہتر معلوم ہے کہ ہماری صورتحال کیا ہے، ہماری فوجوں کی صورتحال کیا ہے ۔ ہمیں کب ،کیسے،کہاں،کیا کرنا چاہیئے؟ اور ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے دوست اس بات کو سمجھیں کہ ایسا سوچنا اور کرنا ہمارا حق ہے۔ ہم نے ملک کے اندر شدت پسندوں کے خلاف جنگ لڑ کر دکھائی ہے اور وہ لوگ جو ابھی بھی پاکستان کو شدت پسندوں کے خلاف جنگ کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں میں انہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ 2009 میں ہمارے فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تعداد فی دن دس فوجی تھی۔

حسین حقانی امریکہ میں پاکستان کے حوالے سے اس خیال کی نفی کرتے بھی دکھائی دئیے کہ پاکستان طالبان کے خلاف موثر طریقے سے جنگ نہیں لڑ رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ دو برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے انٹیلی جنس کے سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اور آئی ایس آئی پر طالبان کی جانب سے کیے جانے والے یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ آئی ایس آئی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔

حسین حقانی کا کہنا تھا کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کی ساکھ بہتر کرنے کی ضرورت ہے مگر پاکستانی حکمران اتنا برا کام بھی نہیں کر رہے جتنا ان کے خلاف کہا جا رہا ہے۔

امریکہ اور عالمی برادری کے کہنے پر پاکستان میں ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ٹیکس کے نفاذ کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ یہ کام اس طرح سے کیا جائے کہ پاکستان کے غریب طبقے پر اثر نہ پڑے۔ ٹیکس کا نفاذ پر ہم نے کام شروع کر دیا ہے۔ جبکہ پاکستان میں کرپشن ابھی بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اور بدعنوانی ختم کرنے کا بہترین طریقہ قانون کی عملداری کو ممکن بنانا ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک جانب جہاں دہشت گردی سے لڑ رہا ہے وہیں دوسری طرف پاکستان کو تاریخ کے بدترین سیلابوں کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصان کا ازالہ کرنےکے لیے بھی عرصہ درکار ہوگا جس کے لیے پاکستانی حکومت کو اپنے وسائل استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ قانون کےنفاذ کو لازمی بنانا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG