رسائی کے لنکس

پاک افغان تعلقات خطے کے مفاد میں ہیں

  • آمنہ خان

پاک افغان تعلقات خطے کے مفاد میں ہیں

پاک افغان تعلقات خطے کے مفاد میں ہیں

بھارت کے حالیہ دورے میں افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا، لیکن یہ بات ایک بار پھر کہی کہ وہ افغانستان میں مفاہمت کے ماحول کو فروغ دینے کےلیے طالبان کےبجائے پاکستان سے مذاکرات چاہتےہیں۔ بعض ماہرین کو تشویش ہےکہ صدر حامد کرزائی کے ان بیانات میں افغانستان میں سرگرم طالبان گروہوں اور پاکستان کے درمیان روابط کی طرف اشارہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

سابق امریکی سفیر ،اور جنوبی ایشیائی امور کے لیےامریکہ کے سابق نائب وزیر خارجہ ہاورڈشیفر کہتے ہیں کہ انہیں پاکستانی حکومت کے اہل کاروں کی شکایات پر وقت ضائع کرنے کے بجائے براہ راست پاکستانی حکومت کے ساتھ ہی بات چیت کر لینی چاہیے۔

بعض دوسرے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گو پاکستان سے مذاکرات میں دلچسپی کی خواہش قابل اعتراض نہیں، تاہم افغان صدر کے اس بیان کا پاکستان میں خیر مقدم نہیں کیا جائے گا ، کیونکہ پاکستان مذاکرات میں طالبان گروہوں کی شرکت دیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن واشنگٹن کے تھنک ٹینک وڈرو ولسن سینٹرکے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق صدر کرزئی سرد و گرم طبعیت کے مالک ہیں اور وہ ہر ایسے بیان کے ساتھ پاکستان کو کوئی نہ کوئی مفاہمتی اشارہ بھی ضرور دیتے ہیں۔ان کا کہناہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ حقیقی معنوں میں پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہورہاہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور اگلے کچھ ہفتوں میں پیش آنے والے واقعات حالات کا صحیح رخ متعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

کوگل من کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے موجودہ تعلقات کے تناظر میں افغان صدر حامد کرزئی کا حالیہ دورہ بھارت پاکستان کے سیکیورٹی تحفظات اور خدشات میں اضافے کا باعث بنا ہوگا ۔

پاکستانی عہدے داروں کے مطابق افغانستان او ر بھارت کے حالیہ معاہدے سے پاک افغان تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔اور واشنگٹن کے تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے ایک ماہرشجا ع نواز کے مطابق یہ بھی ضروری نہیں کہ افغانستان اور بھارت کے تعلقات میں مضبوطی اور پاک افغان تعلقات میں موجودہ تناؤ کی وجہ سے افغانستان کے معاملے میں پاکستان او ر بھارت کے درمیان مقابلے کا ماحول ہی پیدا ہو۔

ان کا کہناہے کہ پاکستان اس لحاظ سے بہتر پوزیشن میں ہے کہ افغانستان کے ساتھ ان کا ایک سرحد مشترک ہے۔ پاکستان کےلیے بڑا ضروری ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرے اور اگر وہ علاقائی سطح پر پاکستان اور بھارت مل کے افغانستان کے ساتھ چلتے ہیں اور وہاں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور تجارت بڑھاتے ہیں تو اس میں تینوں ممالک کا فائدہ ہے۔

شجا ع نواز کہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوج کے سابق کمانڈرسٹینلے مک کرسٹل نے پاکستان امریکہ اور افغانستان میں بات چیت کا جو سلسلہ شروع کرایا تھا، اس کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں کافی بہتری آئی تھی اور ممکن ہے کہ امریکہ کی نئی فوجی قیادت کو اب افغانستان میں بات چیت کا یہ سلسلہ نئے سرے سے شروع کرانا پڑے۔

XS
SM
MD
LG