رسائی کے لنکس

مجوزہ پاک افغان جرگے میں تمام لسانی گروہوں کی نمائندگی ضروری


پروفیسر برہان الدین ربانی

پروفیسر برہان الدین ربانی

اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کی قیادت میں ایک وفد منگل کو پاکستان پہنچا تھا اور اپنے قیام کے دوران اُنھوں نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی سے ملاقاتیں کی ہیں۔

افغانستان کی’ اعلیٰ امن کونسل ‘کے سربراہ سابق صدر پروفیسر برہان الد ین ربانی نے پاکستان کے سیاسی اور فوجی قائدین کے ساتھ اپنی بات چیت کو انتہائی مفید اور کامیاب قرار دیا ہے۔

تاہم پاکستانی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے اختتام پر جمعہ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اُنھوں نے مسائل کی پیچیدگیوں کے پیش نظردونوں ملکوں کے درمیان ایسے رابطوں میں تسلسل پر زور دیا ۔

پروفیسر ربانی نے کہا کہ بات چیت میں دونوں ملکوں نے ایک نیا جرگہ منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور اُنھوں نے تجویز دی ہے کہ اس مجوزہ جرگے میں افغانستان اور پاکستان کے صرف پختون ہی نہیں بلکہ دوسری قوموں کی نمائندگی بھی ہونی چاہیئے کیوں کہ اُن کے بقول یہ مسئلہ کسی ایک فریق یا گروہ کا نہیں ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2006 ء اور 2007ء میں بھی ایسے جرگوں کا انعقاد ہو چکا ہے لیکن اُن میں پاکستان کی نمائندگی صرف پختونوں ہی نے کی تھی۔

اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کی قیادت میں ایک وفد منگل کو پاکستان پہنچا تھا اور اپنے قیام کے دوران اُنھوں نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی سے ملاقاتیں کی ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن ’UNAMA‘ کی معاونت سے افغان امن کونسل کے وفد نے یہ دورہ کیا ہے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق بات چیت میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے کیوں کہ پاکستانی حکو مت کو درپیش سیاسی بحران اور افغان وفد کی ملک میںآ مد کے موقع پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل سے پیدا ہونے والے حالات اس پر حاوی رہے۔

XS
SM
MD
LG