رسائی کے لنکس

”طالبان باغیوں کی پشت پناہی کے الزام پر صدمہ ہوا ہے“


وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انھیں برطانیہ کے تعلیمی ادارے کی اس جائزہ رپورٹ پر صدمہ ہوا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہی ہے اور یہ کہ ملک کی اعلیٰ قیادت اس پالیسی سے آگاہ رہتے ہوئے اس کی حمایت کر رہی ہے ۔

سرکاری ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ، افواج اور آئی ایس آئی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دیں ہیں اس کا اعتراف پوری دنیا میں کیا جاتاہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ”جس طرح سے آئی ایس آئی نے دوسرے خفیہ اداروں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف لڑنے اور عسکریت پسندی کو کچلنے کے لیے تعاون کیا ہے اسے دنیابھر میں تسلیم کیا جاتا ہے ۔

لندن اسکول آف اکنامکس نے اتوار کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے اہلکار افغان طالبان کو مالی مدد اور عسکری تربیت فراہم کرنے کے علاوہ جنوب مغربی پاکستانی شہر کوئٹہ میں مبینہ طور پر طالبان کی جنگی شوریٰ کے اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے ہیں۔

برطانوی ادارے کا کہنا ہے کہ جائزہ رپورٹ طا لبان کے اعلیٰ کمانڈروں اور کابل میں سابق طالبان حکومت میں شامل وزراء کے علاوہ مغربی اور افغان سکیورٹی عہدے داروں سے کیے گئے انٹرویوز کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مصنف میٹ والڈمین (Matt Waldman) ہیں جن کا تعلق ہاروڈ یونیورسٹی سے ہے۔ ان کے مطابق ” پاکستان نے افغانستان کے بارے میں دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ “ میٹ والڈمین کہتے ہیں کہ مغربی دنیا کے اعلیٰ حکام اس تجزیہ کے نتائج کی تائید کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی سرگرمیوں کا انحصار بڑی حد تک آئی ایس آئی اور مشرق وسطی میں موجود گروپوں سے ملنے والی مالی معاونت پر ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائک مولن اور امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا تھا کہ ایسی علامتیں سامنے آئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی میں کچھ عناصر طالبان اور القاعدہ کی مدد کر رہے ہیں۔

میٹ والڈمین نے اپنی رپورٹ میں الزا م لگایا ہے کہ انھیں ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور آئی ایس ٓئی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے گرفتار کے گئے طالبان کے اہم کمانڈروں سے ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ ان کے خلاف کارروائی صرف امریکی دباؤ پر کی گئی ہے ۔
میٹ والڈمین کہتے ہیں پاکستان کی بظاہر اس ”دوغلی پالیسی “ کے بارے میں امریکی سیاسی حلقے آگاہ ہیں۔ ان کے بقول پاکستان کے کردار میں تبدیلی لائے بغیر بین الاقوامی فورسز اور افغان حکومت کی شورش کے خلاف کامیابی اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوں گی۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب افغانستان میں اتحادی افواج کے متوقع آپریشن کے جواب میں طالبان شدت پسندوں نے اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

پچھلے ایک ہفتہ امریکہ اور اسکی اتحادی افواج کے لیے خاصا ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے جس میں مجموعی طور پر کم از کم 21 غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے ۔ سال 2001ء کے اواخر میں شروع ہونے والے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اب تک تقریباً 1,100 امریکی فوجیوں سمیت 1,800 بین الاقوامی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG