رسائی کے لنکس

پاکستان طالبان سے مذاکرات میں مدد دے، صدر کرزئی


پاکستان طالبان سے مذاکرات میں مدد دے، صدر کرزئی

پاکستان طالبان سے مذاکرات میں مدد دے، صدر کرزئی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں سے جاری لڑائی میں پڑوسی ممالک کی مدد کے بغیر ان کے ملک میں قیامِ امن کی کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی۔

بدھ کو افغانستان کے مسئلے پر ترکی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک اب بھی افغانستان کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں "تباہی کی بے رحمانہ مہم" جاری رکھنے والے دہشت گرد گروہوں کی بیرونِ ملک پناہ گاہیں موجود ہیں۔

صدر کرزئی نے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ طالبان کی اعلیٰ سطحی قیادت – جو ان کے بقول پاکستان ہی میں مقیم ہے - کے ساتھ مذاکرات میں ان کے ملک کی مدد کرے ۔

ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے تناظر میں افغانستان کی معاشی اور سلامتی کی صورتِ حال کا جائزہ لینا ہے۔

کانفرنس میں پاکستان، فرانس، جرمنی، ایران اور بھارت سمیت 20 سے زائد ممالک کے سفارت کار اور عالمی امدادی اداروں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

صدر کرزئی کا یہ بیان ان کی اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے استنبول میں ہونے والی ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں دونوں رہنمائوں نے سابق افغان صدر اور طالبان سے مذاکرات کے نگران برہان الدین ربانی کے ستمبر میں ہونے والے قتل کی مشترکہ تحقیقات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر کرزئی پاکستان پر مسلسل زور دیتے آئے ہیں کہ وہ افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات کرے۔

امریکی اور افغان حکام کا الزام ہے کہ پاکستان افغانستان میں سرگرم شدت پسندوں کو تحفظ اور مدد فراہم کر رہا ہے۔ امریکی دعووں کے مطابق پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر جن شدت پسند گروہوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے ان میں حقانی نیٹ ورک بھی شامل ہے جسے ربانی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

قبل ازیں کانفرنس کے میزبان اور ترکی کے صدر عبد اللہ گل نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ دیگر ممالک پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افغانستان کی سلامتی، استحکام، امن اور ترقی میں مدد فراہم کریں۔ ان کے بقول اس نوعیت کا تعاون "ہمارے مشترکہ مفادات" کے لیے ضروری ہے۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ استنبول میں ہونے والے اجلاس میں مستقبل میں افغانستان میں عالمی برادری کے کردار کا اجمالی خاکہ تیار کرلیا جائے گا۔

یاد رہے کہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج 2014ء کے آخر تک سلامتی کی ذمہ داریاں مکمل طور پر مقامی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کرکے ملک سے نکل جائیں گی۔

اس وقت افغانستان میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد غیر ملکی فوجی تعینات ہیں جن کی اکثریت کا تعلق امریکہ سے ہے۔

XS
SM
MD
LG