رسائی کے لنکس

افغان حکومت و طالبان کے براہ راست مذاکرات کی بحالی کی کوششیں خوش آئند


فائل فوٹو

فائل فوٹو

افغانستان میں سیاسی امور کے تجزیہ کار ہارون میر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا کہ براہ راست مذاکرات سیاسی حل کی راہ ہموار کریں گے لیکن ان کے بقول اس مقصد کے حصول کے لیے ابھی بہت سا فاصلہ طے کرنا باقی ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں مبصرین افغان مصالحتی عمل کے لیے چار فریقی گروپ کی کاوشوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کرتے ہیں کہ یہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین براہ راست مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کریں گی۔

پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ کے نمائندوں پر مشتمل چار فریقی گروپ کا تیسرا اجلاس ہفتہ کو اسلام آباد میں ہوا تھا جس میں شرکاء نے جنگ سے تباہ حال ملک میں مصالحتی عمل کے لائحہ عمل پر اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ متوقع طور پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات رواں ماہ کے اواخر میں شروع ہو سکتے ہیں۔

افغانستان میں سیاسی امور کے تجزیہ کار ہارون میر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا کہ براہ راست مذاکرات سیاسی حل کی راہ ہموار کریں گے لیکن ان کے بقول اس مقصد کے حصول کے لیے ابھی بہت سا فاصلہ طے کرنا باقی ہے اور فی الوقت کیے جانے والے اقدام اعتماد سازی کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عمل پر اعتماد کرنا پڑے گا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔

"ہم امید کرتے ہیں کہ اب پاکستانی حکام مخلص ہیں اور وہ اس عمل میں مدد کر رہے ہیں کیونکہ تشدد کا جاری رہنا کسی کے بھی حق مں نہیں اور دونوں ملک تشدد کا شکار ہیں لہذا کسی نہ کسی حل تک پہنچنا ضروری ہے۔"

ہارون میر کہتے ہیں کہ افغانستان کی جانب بھی بہت سے سوال ابھی جواب طلب ہیں کیونکہ ان کے بقول ایک تعطل کی کسی کیفیت ہے جس میں افغان حکومت اور طالبان دونوں ہی مختلف مسائل سے دوچار ہیں اور طالبان کی دھڑے بندیوں نے بھی بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

پاکستان افغان مصالحتی عمل کی حمایت کا عزم ظاہر کرتا آیا ہے اور گزشتہ جولائی میں اس نے افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے مابین پہلی براہ راست ملاقات کی میزبانی کی تھی۔ لیکن بات چیت کا یہ سلسلہ ایک ہی دور کے بعد بوجوہ تعطل کا شکار ہو گیا۔

افغان امور کے ماہر اور سینیئر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ مصالحتی عمل میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے اور اس سے توقع بھی کی جاتی رہی ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لے آئے گا۔

"میرے خیال میں ان (چار فریقی گروپ) کو کوئی یقین دہانی کروائی گئی ہوگی اسی لیے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مہینے کے آخر تک امید ہے کہ براہ راست مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ پاکستان کے طالبان کے ساتھ رابطے ہیں کچھ طالبان رہنما پاکستان میں موجود ہیں پاکستان ایک بار پہلے بھی مذاکرات کروا چکا ہے تو پاکستان سے یہ توقع سب کو ہے کہ وہ پھر سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لے آئے گا، اس کے بعد ہی میں سمجھتا ہوں کہ اتنا بڑا دعویٰ کیا گیا ہے (مذاکرات کی بحالی کا)۔"

تاہم ہارون میر کی طرح رحیم اللہ یوسفزئی کا بھی یہ کہنا تھا کہ براہ راست مذاکرات میں طالبان کے کون کون سے گروپ شامل ہوں گے یہ بہت اہم معاملہ رہے گا۔

گزشتہ جولائی میں طالبان کے امیر ملا عمر کے انتقال کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد ملا اختر منصور کو طالبان نے اپنا امیر منتخب کیا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی مختلف گروہوں کی طرف سے ان کی سربراہی کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اختلافات خاصے گہرے ہو گئے تھے۔

چار فریقی گروپ کے اجلاس میں شرکاء نے طالبان کے تمام گروہوں پر زور دیا کہ وہ بات چیت کے عمل میں حصہ لیں۔

ادھر افغانستان میں طالبان کی کارروائیاں بھی جاری ہیں اور ایسی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ عسکریت پسند جنوبی صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی سرگرمیوں کو مہمیز کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG