رسائی کے لنکس

أفغانستان الزام تراشی کی بجائے سرحدی نگرانی بہتر بنائے، پاکستان


افغان طالبان اپنے ہتھاروں کے ساتھ کسی نامعلوم منزل کی جانب جا رہے ہیں۔ 17 جنوری 2017

پاکستان نے سرحد پر نئی چوکیاں قائم کی ہیں اور فوجی مراکز بنائے ہیں تاکہ دهشت گردوں کی سرحد کے آر پار آمد و رفت کو روکا جا سکے۔ اور وہ أفغانستان سے بھی اسی طرح کے اقدامات کی توقع رکھتا ہے۔

ایاز گل

پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ وہ ہمسایہ ملک أفغانستان میں دهشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہے اور اس نے أفغانستان سے مطالبہ کیا ہے وہ دونوں ملکوں کی 2600 کلومیٹر طویل نگرانی کے لحاظ سے کمزور سرحد پر سیکیورٹی کو بہتر بنائے ۔

کابل پاکستانی سیکیورٹی پر اداروں پر یہ إلزام لگاتا ہے کہ اس کے طالبان کے ساتھ خفیہ رابطے ہیں اور وہ شورش پسند گروپس کو اپنے علاقے میں قائم محفوظ پناہ گاہیں استعمال کرنے اور أفغانستان کے اندر تشدد کی کارروائیوں کے منصوبے بنانے کی اجازت دیتے ہیں۔

راول پنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹرز میں ایک نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے أفغان حکومت کے الزامات مسترد کردیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک أفغانستان میں امن کی خواہش رکھتا ہے اور أفغانستان میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ أفغان سرحد سے ملحق علاقوں میں دهشت گردی کے خلاف کئی برسوں تک جاری رہنے والی فوجی مہم نے دهشت گردوں کے تمام خفیہ ٹھکانوں کا صفایا کر دیا ہے اور زیادہ تر دهشت گردوں کو مار جا چکا ہے، جب کہ باقی ماندہ سرحد عبور کر کے أفغانستان چلے گئے ہیں، کیونکہ سرحد کی دوسری جانب فوجی دستے موجود نہیں ہیں۔

پاکستان نے سرحد پر نئی چوکیاں قائم کی ہیں اور فوجی مراکز بنائے ہیں تاکہ دهشت گردوں کی سرحد کے آر پار آمد و رفت کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ أفغانستان سے بھی اسی طرح کے اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔

جنرل آصف غفور نے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں أفغان سرحد پر سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے اور ہمسایہ ملک میں قیام امن کے لیے وہاں اپنے دو لاکھ فوجی تعینات کیے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے ان خدشات کا ایک بار پھر ذکر کیا کہ أفغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی طالبان، ملک میں دهشت گردی کے خلاف ہونے والی کامیابیوں کے لیے خطرہ ہیں جس کی وجہ سے پاکستان اپنے فوجی دستوں کی موجودہ تعداد وہاں رکھنے پر مجبور ہے۔

جب کہ أفغان راہنما اپنے اس موقف پر بدستور قائم ہیں کہ پاکستان نے دهشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صرف پاکستان دشمن شورش پسندوں کو ہدف بنایا ہے اور انہوں نے افغان لیڈروں اور حقانی نیٹ ورک کے دهشت گردوں کو، جو ان کے اتحادی ہیں، نظر انداز کر دیا اور وہ پاکستان کے اندر اپنے محفوظ ٹھکانوں سے أفغانستان کے اندر مہلک حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG