رسائی کے لنکس

پاکستان اور افغانستان باہمی لائحہ عمل وضع کریں: تجزیہ کار


فائل فوٹو

بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر طلعت وزارت نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے شکار ملک پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے الزامات مناسب نہیں۔

پاکستان میں ایک ہفتے کے دوران ہونے والے مختلف ہلاکت خیز دہشت گرد حملوں کے بعد سول اور فوجی قیادت کی طرف سے یہ بیانات سامنے آچکے ہیں کہ ان کارروائیوں کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر افغانستان میں موجود عسکریت پسند کر رہے ہیں جن کے خلاف افغان حکومت کارروائی نہیں کر رہی۔

تاہم افغان حکام کی طرف سے انسداد دہشت گردی میں تعاون کی یقین دہانیوں کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان خود اپنے ہاں موجود ان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو سنجیدگی سے ختم نہیں کر رہا ہے جو افغان علاقوں میں تخریبی کارروائی کرتے آ رہے ہیں۔

کابل میں پاکستان کے سفیر ابرار حسین کو وزارت خارجہ طلب کر کے نائب افغان وزیرخارجہ حکمت خلیل کرزئی نے جہاں پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں میں جانی نقصان پر اظہار تعزیت کیا وہیں حالیہ دنوں میں چمن سرحد کے قریب مبینہ طور پر پاکستانی فورسز کی طرف سے افغان علاقوں میں گولہ باری پر وضاحت بھی طلب کی۔

اطلاعات کے مطابق اس گولہ باری سے دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ہفتہ کو پاکستان کی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ سفیر ابرار حسین نے افغان حکام کو اپنے ملک کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فراہم کی گئی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کریں۔

ایک روز قبل ہی پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمار کو فون کر کے افغان علاقوں میں موجود دہشت گردوں سے متعلق اپنے ملک کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ دہرایا تھا۔

جمعہ کو ہی پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے سربراہ امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن کو فون کیا اور انھیں بتایا تھا کہ مبینہ طور پر افغانستان میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کیا جان ان کے بقول سرحد پار پاکستان کی کارروائی نہ کرنے کی پالیسی کا امتحان ہے۔

پاکستان کے اپنے اس مغربی پڑوسی ملک سے بھی حالات حالیہ مہیںوں میں سرد مہری کا شکار رہے ہیں اور اس حالیہ الزام تراشی کو مبصرین خطے کے امن کے لیے انتہائی مضر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کو سفارتی سطح پر ایک موثر لائحہ عمل وضع کر کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر طلعت وزارت نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے شکار ملک پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے الزامات مناسب نہیں اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ سفارتی سطح پر اپنے بیانیے کو بھرپور انداز میں اجاگر کرے۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق اعلیٰ عہدیدار طلعت مسعود کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی صورت بھی دونوں ملکوں اور خطے کے مفاد میں نہیں ہوگی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے اپنے مشرقی پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ بھی تعلقات گزشتہ سال سے انتہائی کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG