رسائی کے لنکس

طورخم میں صورتحال بدستور کشیدہ، زخمی پاکستانی فوجی افسر دم توڑ گیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

طورخم بارڈر پر منگل کو تیسرے روز بھی کشیدگی بدستور موجود ہے اور سرحد کی دونوں جانب سکیورٹی اہلکار اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گرزگاہ طورخم پر افغان فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا پاکستان فوج کا ایک افسر منگل کو اسپتال میں دم توڑ گیا۔

میجر جواد چنگیزی طورخم پر پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے دوران زخمی ہو گئے تھے اور وہ پشاور میں فوج کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔

اتوار کی شب سے شروع ہونے والے فائرنگ کے اس تبادلے میں پاکستان فوج کے میجر کے علاوہ ایک افغان فوجی مارا گیا جب کہ دونوں جانب 17 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

دونوں ملکوں کی سیکورٹی فورسز کے درمیان اتوار کی شب شروع ہونے والی جھڑپیں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے کے بعد رک گئی تھیں اور افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ٹوئیٹر‘ پر پیر کو ایک پیغام میں کہا تھا کہ فائر بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

تاہم پیر کی شام ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا تھا۔

طورخم بارڈر پر منگل کو تیسرے روز بھی کشیدگی بدستور موجود ہے اور سرحد کے دونوں جانب سکیورٹی اہلکار اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق دونوں ہی جانب سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے سرحدی علاقے میں پہنچا دیئے گئے ہیں۔

مقامی قبائلیوں کے مطابق طورخم کے قریب لنڈی کوتل بازار منگل کو کھل گیا ہے لیکن طورخم سرحد بند ہونے کے سبب دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ طورخم سرحد پر آمدورفت کو منظم بنانے کے لیے وہ اپنی جانب ایک گیٹ تعمیر کر رہا تھا کہ افغان فورسز نے فائرنگ شروع کر دی۔ تاہم افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ کا آغاز پاکستان کی طرف سے کیا گیا۔

فائرنگ کے ان واقعات کے بعد پاکستان نے پیر کو اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو طلب کر اُنھیں حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا اور احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔

جب کہ افغانستان نے کابل میں تعینات پاکستان کے سفیر سید ابرار حسین کو طلب کر کے اُن سے طورخم سرحد پر ہونے والی جھڑپ پر احتجاج کیا۔

سرحد کی نگرانی موثر بنانے کے لیے پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان تناؤ میں بظاہر اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کی طرف سے طورخم کے قریب باڑ لگانے کے معاملے پر تناؤ کے سبب مئی میں یہ سرحدی راستہ چار روز تک بند رہا، جس کے بعد افغان سفیر عمر زخیلوال نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی اور پھر طورخم سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG