رسائی کے لنکس

پاک افغان اعلیٰ سطحی رابطہ، سرحدی تنازع کے حل کے طریقہ کار پر اتفاق


فائل فوٹو

فائل فوٹو

افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز کے درمیان ایک اہم ملاقات جمعہ کو تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

افغانستان اور پاکستان کی فورسز کے درمیان رواں ماہ طورخم کے مقام پر ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں نے سرحدی معاملات کو حل کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز کے درمیان ایک اہم ملاقات جمعہ کو تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

اس اجلاس میں پاکستان اور افغانستان کے صدور بھی شریک ہیں۔

ملاقات میں ایک اعلیٰ سطحی طریقہ وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ سرحدی معاملات اور سلامتی سے متعلق اُمور کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق مجوزہ طریقہ کار یا میکنزم کی صدارت مشترکہ طور پر سرتاج عزیز اور افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کریں گے جب کہ اس میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر بھی شامل ہوں گے۔

اسی طریقہ کار کے تحت ایک تکنیکی ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا جو دونوں ممالک کے تحفظات کو دیکھے گا۔

دونوں پڑوسی ممالک کے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کے بعد کہا گیا کہ مجوزہ طریقہ کار کی تشکیل کا مقصد نا صرف مسائل کو احسن طریقے سے حل کرنا ہے بلکہ طورخم کی طرح کے واقعات سے بچنا بھی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد لگ بھگ 2500 کلو میٹر طویل ہے اور اس کی موثر نگرانی بڑھانے کے لیے رواں ماہ پاکستان نے طورخم کے مقام پر ایک گیٹ کی تعمیر شروع کی، جس پر افغانستان کو تحفظات تھے۔

اسی تعمیری ڈھانچے یا گیٹ پر اختلاف کے سبب دونوں ملکوں کی سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں پاکستانی فوج کے ایک میجر کے علاوہ افغان سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار بھی مارے گئے جب کہ دونوں جانب درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان زمینی رابطوں میں سب سے مصروف گزر گاہ طورخم ہی کی ہے اور کشیدگی کے باعث تقریباً چھ روز تک یہ سرحد بن رہی۔ البتہ اب اس کے ذریعے آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔

طورخم میں کشیدگی کے بعد پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی تھی۔

لیکن افغانستان نے اپنے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کی قیادت میں ایک وفد رواں ہفتے کے اوائل میں پاکستان بھیجا تھا۔

پاکستانی وزارت خارجہ میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات میں سرحدی کشیدگی پر ایک دوسرے کے خدشات و تحفظات پر تو بات ہوئی لیکن بات چیت کے اس دور میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔

تاشقند میں افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور سرتاج عزیز کے درمیان ملاقات میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ دونوں ملکوں اور خطے کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والی دہشت گردی کے لعنت کو ختم کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رہیں گے۔

مشترکہ اعلامیے میں دونوں ملکوں نے تمام سطحوں پر قریبی رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG