رسائی کے لنکس

مذاکرات کے بعد طورخم سرحد کھول دی گئی

  • شمیم شاہد

طورخم بارڈر پر پاکستان کی طرف سے سرحدی گیٹ کی تعمیر کے آغاز کے بعد گزشتہ اتوار کی شب کو دونوں ملکوں کی سیکورٹی فورسز میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد سے یہ راستہ بند تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم کے مقام پر سرحدی راستہ طورخم ہفتہ کو کھول دیا گیا۔

طورخم بارڈر پر پاکستان کی طرف سے سرحدی گیٹ کے تعمیر کے آغاز کے بعد گزشتہ اتوار کی شب کو دونوں ملکوں کی سیکورٹی فورسز میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد سے یہ راستہ بند تھا۔

مقامی قبائلی حکام کے مطابق جمعہ اور ہفتے کے درمیانی شب دونوں ملکوں کے اہلکاروں کے درمیان مذاکرات کے بعد سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

طورخم پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی رابطے کی سب سے مصروف گزرگاہ ہے جس سے روزانہ نا صرف ہزاروں افراد ایک سے دوسرے ملک میں سفر کرتے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں سامان سے لدی گاڑیاں بھی سرحد کے آرپار جاتی ہیں۔

حالیہ کشیدگی کے باعث بھی دونوں جانب سامان سے لدی سینکڑوں گاڑیاں کھڑی تھیں۔

مقامی لوگوں نے سرحد دوبارہ کھلنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں طرف کے لیے لوگوں کے لیے اچھا اقدام قرار دیا۔

طورخم کے ایک رہائشی منتظر آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا۔

"یہ بہت اچھا ہوگیا ہے۔ دونوں طرف نقصان تھا، ہم لوگ بھی بے روزگار ہوگئے تھے لیکن بات یہ ہے کہ گیٹ کا فیصلہ (مستقل بنیادوں پر) ہو جائے کیونکہ یہ کچھ وقت کے بعد پھر بند ہو جاتا ہے۔"

یہیں ایک ہوٹل کے مالک خان دین شنواری کہتے ہیں کہ بات چیت ذریعے معاملے کا حل تلاش کرنا ہی سب سے بہتر عمل ہے۔

"ہم دونوں طرف امن چاہتے ہیں، ہمارے آپس میں رشتے ہیں دونوں طرف پختون ہیں اور جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں مذاکرات سے سب راستے کھل جاتے ہیں۔"

سرحد کی نگرانی کو موثر بنانے کے لیے پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ طورخم کے سرحدی راستے کے ذریعے یکم جون سے بغیر سفری دستاویزات کے لوگوں کی آمد و رفت روک دی ہے جب کہ اس کے بعد پاکستان نے طورخم کے مقام پر ایک گیٹ کی تعمیر شروع کی، جس پر دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

دونوں ہی ملکوں کے حکام ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اتوار کی شب سے بدھ کی رات تک مختلف اوقات میں فائرنگ سے پاکستانی فوج کے ایک میجر سمیت چار افراد مارے گئے جن میں افغان سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد لگ بھگ 2500 کلومیٹر طویل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس سرحد کے دشوار گزار راستوں کو شدت پسند ایک سے دوسرے ملک میں داخلے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پاکستانی حکام کا یہ بھی موقف رہا ہے کہ باقاعدہ سرحدی راستوں کے ذریعے بھی عام شہریوں کے بھیس میں دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور اسی لیے نگرانی کو موثر بنانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کی طرف سے نا صرف افغان حکومت بلکہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈروں سے پاک افغان سرحد کی نگرانی موثر بنانے کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہی ہے۔

پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ سرحد کی کڑی نگرانی سے دونوں ہی ملکوں میں امن و امان کے لیے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG