رسائی کے لنکس

خواتین کی تعلیم و تربیت شدت پسندی کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے: ایڈمرل ملن


خواتین کی تعلیم و تربیت شدت پسندی کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے: ایڈمرل ملن

خواتین کی تعلیم و تربیت شدت پسندی کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے: ایڈمرل ملن

امریکی مسلح افواج کے سربراہ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع دیئے جائیں تو شدت پسندی کو ختم کر نے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ایڈ مرل مائیکل مولن واشنگٹن میں قیام امن کے لئے خواتین کے کردار پر ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار داد 1325کے دس سال پورے ہونے پرمنعقد کی گئی۔

امریکی مسلح افواج کے سربراہ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع دیئے جائیں تو شدت پسندی کو ختم کر نے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ایڈ مرل مائیکل مولن واشنگٹن میں قیام امن کے لئے خواتین کے کردار پر ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار داد 1325کے دس سال پورے ہونے پرمنعقد کی گئی۔ کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے شرکت کی ۔

ایڈمرل مائیک مولن اس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جو اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی ایک قرار داد 1325کے دس سال پورے ہونے پر منعقد کی گئی جس کے ذریعے قیام امن اور جنگوں کو روکنے میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا ۔ اس قرار داد کے تحت امن اور سلامتی کوخواتین کے تحفظ سے مشروط کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور تنازعات میں خواتین پر تشدد کے اقتصادی اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سابق نائب سیکرٹری جنرل انوارل کے چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ اقوام متحدہ کی سب سے مشہور قرارداد ہے جس نے دنیا بھر میں امن اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عورتوں اور مردوں میں برابری کی بات کی ۔

انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے مگر اقوام متحدہ نے اب تک عورتوں اور امن و سلامتی کے موضوع پر اس طرح توجہ نہیں دی جیسے کہ سوچا گیا تھا ، میں مارچ 2000ء میں سیکیورٹی کونسل کا صدر تھا جب سیکیورٹی کونسل کی جانب سے ایک سٹیٹمنٹ کو اختیار کیا گیاکہ 1325کی قرارداد کے تصور کو بنیاد بنایا جائے ، کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ امن عمل ، امن مذاکرات اور جنگ اور تنازعے کے بعد کی صورتحال میں پائیداری تب ہوتی ہے جب ان میں خواتین بھی شامل ہوں

اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی مارگو والسٹوم کا کہنا تھا کہ جنگ اور لڑائی میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن عدم استحکام ، بھوک اورایڈز سے نبرد آزما افریقی ملکوں کی عورتیں اپنے تحفظ کے لئے جنگ اور تنازعے کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتیں ۔ اسی لئے اقوام متحدہ افریقہ ہی نہیں دیگر تنازعوں کا شکار ملکوں میں بھی خواتین کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں عورت ہونا زیادہ خطرناک ہوگیا ہے بہ نسبت فوجی ہونے کے ۔ کیونکہ خواتین کو ہر حالت میں کھیت میں جانا ہے ، جلانے کی لکڑی اور پانی لانا ہے ۔ جس میں وہ خطرے میں ہوتی ہیں ۔ اور یہ صورتحال بہت سی عورتوں کے ساتھ ہے ۔ وہی ہیں جو آج کل کی جنگوں سے زیادہ تکلیف میں ہیں ۔ لیکن ہمیں محتاط طریقے سے سوچنا ہے کہ ہم کن ملکوں میں کام کریں۔ ہمیں کوئی چیز افریقی ملکوں کے سوا دوسرے حصوں میں ہونے و الے واقعات کی جانچ کرنے سے نہیں روکتی کہ کن جگہوں پر اسے علاقائی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔مگر فی الحال ہم صرف ان علاقوں پر ہی توجہ دے رہے ہیں جہاں امن کی بحالی کے لیے کارروائیاں کی جارہی ہیں ۔ تاکہ ہم اقوام متحدہ کے سسٹم کے تحت وہی رپورٹ کریں جو درست ہو ۔

ٹیکنالوجی کی ترقی نے جنگوں کا انداز تبدیل دیا ہے مگر انٹرنیشنل سول سوسائٹی ایکشن نیٹ ورک کی صنم آندرلینی اقوام متحدہ کے امن مشنز پر فوج بھیجنے والے ملکوں کی حکومتوں کواپنے فوجیوں کے اخلاقی کردار کی زمہ داری لینے اور انہیں جواب دہ بنانے پر بھی زور دیتی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک چیز جو ہم نے پچھلے ہفتے سنی کہ امریکہ خود اپنے لئے قرارداد1325پر عمل درآمد کانیشنل ایکشن پلین بنا رہا ہے جس کا مقصد امن اور انسانی تحفظ کا فروغ ہے ۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا ملک جو اس وقت دنیا میں جنگیں کرنے میں سب سے آگے ہے وہ اس قرارداد پر عمل کو کیسےیقینی بنائے گا ۔ کیا وہ چیزوں کو کسی مختلف لینز سے دیکھیں گے ۔ کیا وہ تسلیم کریں گے کہ ترقی ،تعاون ، بہتر گورنینس اور حکومتوں کو ان کی ترقیاتی کارکردگی کے لئے جواب دہ بنانازیادہ اہم ہے بہ نسبت ان پر بم پھینکنے کے ۔ تو میرے خیال میں یہ ایک اہم چیز ہے ۔دوسرا سوال یہ ہے کہ جو ملک جنگ لڑ چکے ہیں آج اور گزرے ہوئے کل میں ، انہیں اُس کی ذمہ داری بھی اٹھانی چاہئے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتے ہیں ۔ چاہے وہ امریکہ ہو ویتنام میں یا فرینکلی پاکستان یا لائبیریا ہو۔ جب ہم اس قرارداد کی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جب آپ کے پیس کیپرز کسی ملک میں جاتے ہیں تو انہیں خواتین سے کسی قسم کی زیادتی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے مگر ایسا ہوتا رہا ہے ۔ اور وہ اپنے پیچھے چھوڑتے رہے ہیں وہ جسے ہم کہتے ہیں یو این بے بیز۔ ۔۔جو بہت افسوسناک ہے ۔

لیکن وہ ملک جو کسی جنگ میں براہ راست شامل نہ ہوکر بھی جنگ سے متاثر ہو رہے ہیں وہاں متاثرہ خواتین کے حالات بہتر کرنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کے ایک فلاحی ادارے پیمان ٹرسٹ کی مسرت قدیم کہتی ہیں کہ پاکستانی خواتین کو جنگ ہی نہیں سیلاب کے بعد بھی جنگی حالات کا سامنا ہے جس سے نکالنے کے لئے انہیں اپنے خاندانوں کا معاشی سہارا بننے کے وسائل مہیا کرنے ضروری ہیں ۔

مسرت قدیم کا کہنا تھا کہ ہماری تنظیم نے خواتین کے کمیونٹی لیول پر چھوٹے چھوٹے گروپس بنائے ہیں ۔ اور ہم اس کو اس طرح ایڈریس کر رہے ہیں کہ ہم اسے پیس بلڈنگ تو نہیں کہہ سکتے مگر ہم عورتوں کو ہنر سکھا رہے ہیں اور ہنر سکھا کر ان کو تھوڑی بہت معاشی خودمختاری جب ملتی ہے تو بہت سے مسائل شدت پسندی سے متعلق خود ہی حل ہو جاتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ خواتین ایک بہت بڑا رول پلے کر سکتی ہے۔ وہ اپنے بچے کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے شوہر کو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ وہ کس نہج پر جا رہا ہے ۔ کہیں وہ غلط راستے پر تو نہیں جا رہا ۔ اگر خواتین کے ساتھ مل کر ہم تھوڑی سی آگاہی پیدا کریں ، تھوڑا سا انہیں روزی کمانے کا طریقہ سکھائیں اور زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھائیں تو ہوتا یہ ہے کہ جب وہ تھوڑا بہت گھر کے مالی معاملات میں حصہ لیتی ہیں ، تو فیصلہ سازی میں ان کو تھوڑی بہت اہمیت ملنے لگتی ہے ۔ یہ میرا اپنا تجربہ ہے ، میں سوات میں کام کر رہی ہوں ، میں چارسدہ میں کام کر رہی ہوں ، میں پختون خواہ میں اور کچھ اور جگہوں میں کام کر رہی ہوں ۔ جہاں ہم خواتین کو ساتھ ملا کر ان کو روزی کمانے کی ہنر سکھاتے ہیں ، تو اس سے ہوتا یہ ہے کہ جب ان کے ہاتھ میں تھوڑا بہت پیسہ ہاتھ میں آتا ہے تو وہ گھر کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مسلح افواج کے چئیر مین چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کا بھی یہی کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں شدت پسندی پر قابوپانے کے لئے خواتین کی تعلیم اور روزگار کے مواقعے پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بات انہیں پاکستان اور افغانستان میں لڑکیوں کے سینکڑوں سکول قائم کرنے والے امریکی کوہ پیما گریگ مارٹنسن نے سمجھائی ہے ۔

ایڈمرل مائیک ملن نے کہا کہ ملک تبھی پر امن اور خوشحال ہوتے ہیں جب ان کی عورتوں کو برابر کے حقوق اور مواقع دیئے جاتے ہیں ۔ یہ بات تھری کپس آف ٹی کے مصنف اور میرے دوست گریگ مارٹنسن سے بہتر کون جانتا ہے جس نے پاکستان اور افغانستان میں سکول بنائے جو اس خطے کا مستقبل بنا رہے ہیں اور اسے ایک نئی امید دے رہے ہیں ۔ گریگ اکثر ایک افریقی کہاوت کا ذکر کرتے ہیں کہ ایک عورت کی تعلیم ایک کمیونٹی کی تعلیم ہے ۔ اگرعورتیں تعلیم یافتہ ہونگی تو اپنے بیٹوں کو تشدد اور شدت پسندی کی طرف جانے کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گی۔

ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا تھا کہ اب تک دو لاکھ امریکی خواتین فوجی افغانستان اور عراق میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور ان کی موجودگی نے امریکی فوج کے لئے عراق اور افغانستان میں عوام کے ایسے حلقوں کا اعتماد جیتنے میں اہم کردار ادا کیا جو امریکی فوجیوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر جہاں خواتین کی کامیابیاں ان کے خلاف پائے جانے والے تعصبات کو غلط ثابت کرتی ہیں وہاں دنیا کے ہر ملک میں ابھی ایسے بے شمار دروازے کھولنے کی ضرورت ہے جو خواتین پربند ہیں ۔

XS
SM
MD
LG