رسائی کے لنکس

سرحدی اُمور پر پاک افغان ورکنگ گروپ کا اجلاس


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے کی جب کہ حکام کے مطابق دیگر متعلقہ وزارتوں کے نمائندے بھی اس میں شریک تھے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی نگرانی سے متعلق اُمور پر تکنیکی ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس منگل کو کابل میں ہوا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری اور سول عہدیداروں نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے کی جب کہ حکام کے مطابق دیگر متعلقہ وزارتوں کے نمائندے بھی اس میں شریک تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کی نگرانی سے متعلق اُمور پر اختلافات کے بعد حال ہی تشکیل شدہ تکنیکی ورکنگ گروپ کی سطح پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ پہلا رابطہ تھا۔

گزشتہ ماہ پاکستان نے طور خم سرحد کے ذریعے لوگوں کی آمد و رفت کو منظم بنانے کے لیے ایک گیٹ کی تعمیر شروع کی تھی جس پر افغانستان کو اعتراض ہے۔ اسی گیٹ کی تعمیر کے سبب دونوں ملکوں کی سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دونوں جانب جانی نقصان بھی ہوا۔

دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کے دوران 24 جون کو تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز کے درمیان ملاقات میں سرحدی معاملات کو حل کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے تحت تکنیکی ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا گیا تھا۔

پاکستانی وفد کی طرف سے افغانستان کا یہ دورہ ایسے وقت کیا گیا جب دو روز قبل ہی افغان صدر اشرف غنی نے ایک انٹرویو میں پاکستان سے تعلقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج پاکستان سے ریاست کی سطح پر تعلقات کی نوعیت ہے۔

افغان صدر کے اس بیان پر پاکستان کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اس طرح کے بیانات مسائل کا حل نہیں ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایک دوسرے کا موقف جاننے کے لیے دو طرفہ رابطے بہت اہم ہیں۔

’’رابطے تو بہت اہم ہوتے ہیں کیوں کہ اگر رابطے نا ہوں تو پھر غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اس لیے رابطے بہت ضروری ہیں۔‘‘

پاکستانی سینیٹ کی رکن اور واشنگٹن میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمٰن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لیے سرحد کی نگرانی بہت اہم ہے۔

تاہم اُن کے بقول یہ حساس معاملہ ہے جس سے احتیاط سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

’’اس طرح کے بارڈر کی اگر نگرانی نا کی جا سکے تو پھر آپ کے سارے ریاستی امور یرغمال ہو جاتے ہیں اور آپ کی ساری منصوبہ بندی (خراب ہو جاتی ہے)۔۔۔ اگر افغانستان میں سلامتی کی صورت حال درست نہیں ہے تو بغیر سرحد کی نگرانی کے وہ پاکستان پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔۔۔۔ یہ مسئلہ بہت پرانا ہے اس کو حساس طریقہ سے حل کرنا ہو گا۔۔۔۔ لیکن سرحد کی نگرانی کے بغیر تو آپ اپنی ریاست، اپنی سر زمین کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔‘‘

شیری رحمٰن نے صدر اشرف غنی کے حالیہ بیان کے بارے میں کہا کہ اس سے ایک تاثر یہ بھی ملتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطے بہت زیادہ فعال نہیں ہیں۔

’’اگر آپ کو مستقل ایک دوسرے کو اس طرح ذرائع ابلاغ کے ذریعے پیغام دینے ہیں ۔۔۔ تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے معمول کے (سفارتی) ذرائع کام نہیں کر رہے ہیں۔ پاکستان کو افغانستان کے لیے ایک خصوصی نمائندے کو مقرر کرنا چاہیئے تاکہ وہ ہر وقت رابطے میں رہے اور مسئلے کو آگے بڑھنے سے پہلے روکا جا سکے۔‘‘

ایک روز قبل اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں پاکستانی وزارت دفاع کی طرف سے بتایا گیا کہ طورخم کے مقام پر حال ہی میں تعمیر کیے جانے والے گیٹ کا افتتاح یکم اگست سے کیا جائے گا۔

پاکستان حکام کا موقف ہے کہ اس گیٹ کی تعمیر کا مقصد سرحد کے دونوں جانب غیر قانونی آمد و رفت کو روکنا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد لگ بھگ 2600 کلو میٹر طویل ہے اور اس کا بیشتر حصہ دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے جسے دہشت گرد ایک سے دوسرے ملک میں آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ملک میں جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کی آمد و رفت کو روکا جائے اور اس کے لیے سرحد کی نگرانی ناگزیر ہے۔

XS
SM
MD
LG