رسائی کے لنکس

امریکہ کے صدر براک اوباما کی طرف سے افغانستان سے 2014ء کے بعد بھی 9,800 فوجی تعینات رکھنے اور پھر اس تعداد میں بتدریج کمی کے اعلان کو پاکستان میں عمومی طور پر خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کی طرف سے افغانستان سے 2014ء کے بعد بھی 9,800 فوجی تعینات رکھنے اور پھر اس تعداد میں بتدریج کمی کے اعلان کو پاکستان میں عمومی طور پر خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی معاون برائے اُمور خارجہ طارق فاطمی نے بدھ کو اسلام آباد میں افغانستان سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب میں بظاہر صدر اوباما کے اس اعلان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ منصوبہ بندی اور منظم انداز میں افغانستان سے انخلا پڑوسی ملک میں امن و استحکام کے لیے سود مند ہو گا۔

طارق فاطمی نے کہا کہ افغانستان اپنی تاریخ کے اہم دور سے گزر رہا ہے جہاں انتقال اقتدار کے علاوہ اقتصادی معاملات اور سلامتی کی ذمہ داریاں بھی منتقل ہو رہی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ کسی کے مفاد میں نہیں کہ 1990ء کی دہائی والے حالات لوٹ کر آئیں۔ لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا جواب یہ ہے کہ نا تو افغانستان کو تنہا چھوڑا جائے اور نا ہی اس کے معاملات میں مداخلت کی جائے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے چیئرمین حاجی عدیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ حالات میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی خود افغانستان اور خطے کے مفاد میں ہے۔

’’ہم یہ سجھتے ہیں کہ اس کی ضرورت ہے، جب تک افغانستان میں امن نہ آئے اور جب تک افغانستان میں جو قوتیں لڑ رہی ہیں وہ امن میں شامل نہ ہوں ۔۔۔ اور جب تک افغانستان کی فورسز اور پولیس کی تربیت مکمل نہ ہو تو یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہاں افغانستان میں فوجیں رہیں۔‘‘

افغانستان میں 2014ء کے بعد امریکی فوجوں کی تعیناتی کا انحصار امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان دوطرفہ سکیورٹی معاہدے پر نئے افغان صدر کی جانب سے دستخط پر ہے۔

صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دونوں اُمیدوار عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی امریکہ سے سکیورٹی معاہدے کے حق میں ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی کامیابی کی صورت میں اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔

افغانستان میں اس وقت 32 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ صدر اوباما نے منگل کو کہا تھا کہ 2015ء کے شروع میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد لگ بھگ 9,800 ہو گی اور جب جنوری 2017ء میں اُن کی مدت صدارت مکمل ہو گی تو اُس وقت افغانستان میں ایک ہزار سے بھی کم امریکی فوجی ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG