رسائی کے لنکس

ڈاکٹر عافیہ کو مجرم قرار دیے جانے پرپاکستان کی طرف سے اظہار افسوس

  • ب

ڈاکٹر عافیہ کو مجرم قرار دیے جانے پرپاکستان کی طرف سے اظہار افسوس

ڈاکٹر عافیہ کو مجرم قرار دیے جانے پرپاکستان کی طرف سے اظہار افسوس

امریکہ میں زیر حراست پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو نیویارک کی ایک عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے پر پاکستان نے رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے مستقبل کا لائحہ عمل وضع کرنے کے لیے حکومت وکلا ء اور ڈاکٹر عافیہ کے اہل خاندان سے مشاور ت جاری رکھے ہوئے ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے جمعرات کے روز وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد پاکستانی خاتون ڈاکٹر کی باعز ت وطن واپسی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سمیت پاکستان کے اعلیٰ حکام نے عافیہ صدیقی کی انسانی ہمدری کی بنیاد پر رہائی کے لیے اس معاملے کو امریکہ کے ساتھ ہر سطح پر اُٹھایااور اب اس عدالتی فیصلے کے بعد بھی حکومت اُن کی رہائی کے لیے بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں پر فائرنگ کرنے کا الزام ثابت ہونے پر بدھ کو نیویارک کی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کو مجرم قرار دے دیا تھا تاہم اُنھیں سزا چھ مئی کو سنائی جائے گی۔ جب یہ فیصلہ سنایا گیا تو کمرہ عدالت کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے ۔ وکلائے صفائی کے مطابق ڈاکٹر صدیقی کو اس جرم کی پاداش میں کم ازکم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سز ا سنائی جاسکتی ہے ۔

عافیہ صدیقی کو جولائی 2008ء میں افغانستان کے صوبے غزنی سے اُن کے بیٹے کے ہمراہ حراست میں لیاگیا تھا۔ امریکی حکومت کے مطابق ان سے کیمیائی مادوں کے علاوہ ایسی دستاویزات بھی ملی تھیں جن میں امریکہ پر حملوں کے منصوبے تھے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اس بارے میں تفتیش کے دوران کمرے میں موجو د امریکی اہلکاروں میں سے ایک سے بندوق چھین کر اُن پر فائرنگ شروع کردی اور جوابی کارروائی میں ایک گولی عافیہ کے معدے میں لگی۔

عافیہ کے خاندان کا الزام ہے کہ اُنھیں 2003 ء میں پاکستان سے تین بچوں کے ہمراہ ملک کے انٹیلی اداروں نے حراست میں لینے کے بعد امریکی حکام کے حوالے کردیا تھا جس کے بعد اُنھیں افغانستان میں بگرام میں قید رکھا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ گرفتار کیا جانے والا اُن کا بڑا بیٹا اب کراچی میں اپنی والدہ کے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہے جب کہ باقی دو بچوں کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

XS
SM
MD
LG