رسائی کے لنکس

عافیہ صدیقی کی سزا کے خلاف پاکستان میں مظاہرے جاری


عافیہ صدیقی کی سزا کے خلاف پاکستان میں مظاہرے جاری

عافیہ صدیقی کی سزا کے خلاف پاکستان میں مظاہرے جاری

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی، جہاں عافیہ صدیقی کا بقیہ خاندان بھی مقیم ہے، میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور یہاں امریکی قونصلیٹ کو جانے والے تمام راستے کنٹینر رکھ کر بند کر دیے گئے تھے۔ ادھر دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کی طرف بڑھنے کی کوشش کی ، تاہم پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں وہ اس میں ناکام رہے۔

امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوچھیاسی برس قیدکے عدالتی فیصلے کے خلاف جمعہ کو پاکستان بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

نیو یارک کی ایک وفاقی عدالت نے گذشتہ شب عافیہ صدیقی کو افغانستان میں دوران حراست امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں اور فوجیوں پر قاتلانہ حملہ کرنے کے جرم میں قید کی سزا سنائی تھی، اور جوں ہی یہ اطلاع ذرائع ابلاغ کے ذریعے پاکستان پہنچی ملک بھر میں فوری طور پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو کئی گھنٹے گزر نے کے باوجود جمعہ کو بھی جاری رہا۔

دارالحکومت اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت کئی شہروں میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں میں تیزی آگئی اور بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی، جہاں عافیہ صدیقی کا بقیہ خاندان بھی مقیم ہے، میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور یہاں امریکی قونصلیٹ کو جانے والے تمام راستے کنٹینر رکھ کر بند کر دیے گئے تھے۔ ادھر دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کی طرف بڑھنے کی کوشش کی ، تاہم پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں وہ اس میں ناکام رہے۔

امریکی عدالت کے فیصلے کے خلاف غصے کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے جس سے ٹریفک کے نظام میں عارضی طور پر خلل پڑا۔ جلوسوں میں شامل افراد نے امریکہ مخالف نعرے لگانے کے علاوہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انھوں نے حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس نے ناصرف عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے مناسب کوشش نہیں کی بلکہ ان کوسزا دلوانے میں بھی کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے86 سال قید کی سزاسنائی ہے

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے86 سال قید کی سزاسنائی ہے

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رہنماء بھی عافیہ صدیقی کی امریکہ میں قید اور ان کو سنائی گئی سزا کو حکومت کی نا اہلی قرار دے رہے ہیں، جب کہ عافیہ صدیقی کی بہن، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے مطابق امریکی عدالت کا فیصلہ پاکستانی حکمرانوں کے ”منہ پر طمانچے“ کے مترادف ہے۔

تاہم پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یا سینٹ کے اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ امریکی حکام کے سامنے اٹھاتی رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری کوششیں کی گئی ہیں۔ ”میں ان کے لیے لڑا ہوں، میرا وکیل ان کے لیے لڑا ہے اور اب میں یہ معاملہ سیاسی سطح پر اٹھاؤں گا“۔

وزیراعظم گیلانی

وزیراعظم گیلانی

انھوں نے عافیہ صدیقی کو ”قوم کی بیٹی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس مطالبے پر متفق ہیں کہ ان کو وطن واپس لانا چاہیئے۔

وزیر اعظم گیلانی نے بتایا کہ انھوں نے امریکی عہدے داروں سے ملاقاتوں میں انھیں یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی تھی کہ عافیہ صدیقی کی رہائی سے پاکستان میں امریکہ کی ساکھ بہتر ہو گی۔

XS
SM
MD
LG