رسائی کے لنکس

بلوچستان میں زیتون کی کاشت کے فروغ کا منصوبہ

  • ستار کاکڑ

بلوچستان میں زیتون کی کاشت کے فروغ کا منصوبہ

بلوچستان میں زیتون کی کاشت کے فروغ کا منصوبہ

پاکستان کا جنوب مغربی صوبہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے تو ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر یہاں آبادی فی مربع کلومیٹر بہت کم ہے۔ معدنیات سے مالا مال اس علاقے میں لوگوں کی اکثریت کا ذریعہ معاش بارانی کاشتکاری اور غلہ بانی ہے۔ پھلوں کے باغات اور خشک میوہ جات بھی یہاں کی خاص سوغاتیں ہیں۔

لیکن شورش زدہ اس صوبے میں پانی کی کمی کے باعث زراعت، خصوصاً پھلوں کے باغات متاثر ہو رہے تھے۔ اس مسئلے کے حل اور زمینداروں کو نقد آور فصل تیار کرنے کے لیے زرعی تحقیقاتی مرکز بلوچستان نے ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے جسے ’او لِو پراجیکٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی پراجیکٹ کے ڈائریکٹر محمد اسلم چوہان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت انگور، پستہ اور انار کے ساتھ اب زیتون بھی متعارف کراویا گیا ہے اور ان کے بقول کیونکہ سیب کے درخت کو پانی کی بہت ضرورت ہوتی ہے لہذا پانی کی قلت کے پیش نظر زیتون کا درخت بہت مفید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخت کو سال میں صرف چار یا پانچ بار پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک ایکڑ پر لگائے گئے زیتون کے پھل سے 500 لیٹر خوردنی تیل حاصل کیا جا سکتا ہے’’اور بین الاقوامی سطح پر مانگ زیادہ ہونے کے باعث 500 لیٹر تیل سے کم ازکم پانچ لاکھ روپے کمائے جا سکتے ہیں۔‘‘

اس وقت صوبے کے دو اضلاع خضدار اور ژوب میں 2,000 سے زائد زیتون کے درخت لگائے جا چکے ہیں جن سے پیداوار بھی شروع ہو گئی ہے۔

زرعی تحقیقاتی مرکز بلوچستان کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے 19 کروڑ روپے مالیت کے اس منصوبے پر کام شروع کر رکھا ہے اور اب کوئٹہ، پشین، شیرانی، ہرنائی، موسیٰ خیل، بارکھان، مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، لسبیلہ کے اضلاع کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔

اسلم چوہان کے مطابق تحقیق کے بعد صوبے کے 12 اضلاع میں زمینداروں کو مفت یا بہت ہی کم قیمت پر زیتون کے پودے دیے جائیں گے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اٹلی سے دو مشینیں منگوائی گئی تھیں جن سے اب لورالائی اور خضدار میں کام لیا جارہا ہے اور دوسرے اضلاع میں بھی زیتون کا تیل نکالنے والی یہ مشینیں لگا کر بیرون ملک سے اس خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کا زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔

زیتون سے تیل نکالے جانے کے بعد اس کا فضلہ بھی اسلم چوہان کے بقول بہت کارآمد ہوتا ہے جسے بطور کھاد، جانوروں کی خوراک، صابن یا فارمیکہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG