رسائی کے لنکس

پنجاب میں احمدی خاندان کو ہراساں کرنے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ


حالیہ برسوں میں احمدیوں کی عبادت گاہوں کو بھی انتہا پسندوں نے نشانہ بنایا ہے۔

حالیہ برسوں میں احمدیوں کی عبادت گاہوں کو بھی انتہا پسندوں نے نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی علمبردار ایک بڑی تنظیم نے پنجاب میں اقلیتی احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو بچوں کے لیے اسکول کھولنے کی پاداش میں مسلمان انتہا پسندوں کی طرف سے ڈرانے دھمکانے کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ایک بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم ایک پاکستانی احمدی خاندان نے ضلع لودھراں کی تحصیل دُنیا پور میں ’انٹر ایکٹوو لرننگ سسٹم‘ کے نام سے ایک جدید سکول کھولا۔

’’جب مقامی مذہبی انتہا پسندوں کو اس بارے میں پتہ چلا تو اُنھوں نے مسعود سرور کی اہلیہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر اُنھیں مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے، اسکول اور اُس کے مالکان کے خلاف پراپیگینڈہ مہم شروع کردی۔‘‘

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان انتہا پسندوں نے شہر میں اسکول کے خلاف اشتہارات تقسیم کرنے کے علاوں شہر کی دیواروں پر تحریریں اوربینرز بھی آویزاں کیے۔’’مساجد کے اماموں نے اُن (اسکول کے مالکان) کے خلاف خطبے دیے اور عوام کو اُکسایا۔ انھوں نے احتجاجی جلوس بھی نکالے اور اسکول کے اشتہارات کو تباہ کیا۔ والدین کے پاس جا کراُنھیں اپنے بچوں کو اس تعلیمی درسگاہ بھیجنے سے منع کیا۔‘‘

ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت اسکول میں کے جی سے نویں کلاس تک 70 بچے زیر تعلیم ہیں۔ تنظیم نے مسعود سرور گوندل کے خاندان کو ہراساں کرنے کے ان واقعات پر ’’شدید غصے اور تشویش‘‘ کا اظہار کیا ہے۔ ’’اس معاملے کی عدالتی کارروائی کے ذریعے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔‘‘

انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنے بیان میں احمدیوں کو عموماََ اور مسعود سرور گوندل اور اُن کے خاندان کو خصوصاََ تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG