رسائی کے لنکس

مالی وسائل کی قلت سے ایڈز کی آگاہی مہم متاثر


مالی وسائل کی قلت سے ایڈز کی آگاہی مہم متاثر

مالی وسائل کی قلت سے ایڈز کی آگاہی مہم متاثر

پاکستان میں محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ مالی وسائل کی قلت سے ایچ آئی وی ایڈز کی مہلک بیماری کے خلاف ملک گیر عوامی سطح پر آگاہی مہم کو نقصان پہنچا ہے اور نیا سروے نہ ہونے کے باعث اس بیماری میں مبتلا افراد کے تازہ اعدادوشمار بھی دستیاب نہیں ہیں۔

یہ تشویشناک صورتحال جمعرات کو ایک ایسے روز سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کی بیماری کے خلاف کوششوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مینیجر ڈاکٹر ساجد احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ مالی وسائل کی کم یابی سے ان کے ادارے کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے اور جو پروگرام اور منصوبے تیار کیے گئے تھے ان پر اس طرح سے عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

’’پہلے مہینے کے لیے اچھی آگاہی مہم چلتی تھی، سیشنز ہوتے تھے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ، طلبا کے ساتھ ان میں ہمیں کمی کرنی پڑتی ہیں اور باقی جو آپ ان لوگوں تک جاتے ہیں جو ہائی رسک گروپس ہیں لازمی طور پر ان میں بھی فرق پڑا ہے لیکن یہ ہے کہ وفاقی حکومت اپنے لیول پر اور صوبائی حکومتیں اپنے لیول پر جو بھی ان کے دستیاب وسائل ہیں وہ پروگرام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر ساجد احمد

ڈاکٹر ساجد احمد

ڈاکٹر ساجد نے بتایا کہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد 97400 ہے جب کہ تصدیق شدہ رجسٹرڈ کیسز 4885 ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اعدادوشمار تازہ ترین نہیں ہیں۔’’جب کسی بھی چیز کی افادیت کو دیکھنا ہو تو ابتدائی طور پر سروے کریں گے تو پھر دیکھیں گے کہ آیا آپ کے پاس کیا اعدادوشمار آرہے ہیں۔ پیسے ایکٹویٹیز کے لیے نہیں ہیں تو وہ (سروے) کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘

ماہرین کے مطابق زیادہ سے زیادہ آگاہی کے ذریعے ہی اس بیماری کے پھیلاؤ سے بچا جاسکتا ہے۔ غیر فطری جنسی رجحان، اور استعمال شدہ سرنج اس وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

ایک مذہبی دانشور شمشاد علی شاد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مذہبی حلقے بہت مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ’’تمام مذاہب فحاشی، جنسی بے راہ روی کی مذمت اور مخالفت کرتے ہیں۔ مذہبی رہنماؤں اور پیش امام جب اپنی تقریروں میں اس مہلک مرض کے بارے میں لوگوں کو بتائیں گے تو اس کا زیادہ اثر ہوگا۔ حکومت اور دیگر اداروں کو چاہیے کہ وہ مذہبی حلقوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں اور انھیں ایڈز سے بچاؤ کی مہم میں زیادہ سے زیادہ شامل کریں۔‘‘

شمشاد علی کا کہنا تھا کہ لوگوں کو یہ تو پتا ہے کہ جنسی بے راہ روی اللہ کے ہاں گناہ ہے’’لیکن آج کے دور میں یہ گناہ کس طرح سے مصیبت بن کے نازل ہورہا ہے یہ بہت سارے لوگوں کو نہیں پتا۔‘‘

عالمی اداروں کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تین کروڑ 33 لاکھ افراد ایچ آئی وی ایڈز کے مہلک وائرس سے متاثرہ ہیں اور 2009ء میں اس موذی وائرس سے تقریباً اٹھارہ لاکھ افراد موت کے موت میں چلے گئے۔

XS
SM
MD
LG