رسائی کے لنکس

ماہرین صحت کے مطابق ایڈز ایک لاعلاج مرض ہے لیکن ادویات کے استعمال سے جسم میں موجود وائرس کے پھیلاؤ کو محدود اور اس کے نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہفتہ کو ایڈز کا عالمی دن منایا گیا جس کا مقصد اس جان لیوا مرض اور اس سے بچاؤ کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

پاکستان میں محتاط سرکاری اندازوں کے مطابق ایچ آئی وی/ ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد لگ بھگ 98 ہزار جب کہ اندراج شدہ مریضوں کی تعداد ساڑے چھ ہزار کے قریب ہے۔

لیکن ماہرین صحت اور ایڈز کے خلاف کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں کے اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری اسپتال پمز میں قائم ایڈز ٹریٹمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان عزیز قاضی کہتے ہیں دنیا میں ایڈ کے پھیلاؤ کی بڑی اور عمومی وجہ جنسی تعلقات میں لاپرواہی ہے مگر پاکستان میں استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اس وائرس کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

انسانی خون میں شامل ہوکر قوت مدافعت کو کمزور اور پھر ختم کر دینے والے اس جرثومے کے بارے میں آگاہی سے اس بیماری کے خلاف کوششوں میں ڈاکٹر رضوان کے مطابق خاطر خواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں۔وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ڈاکٹر رضوان نے بتایا۔

’’آگاہی مہم کی وجہ سے یہ فائدہ ہورہا ہے کہ لوگوں کو پتا چل رہا ہے کہ مفت ادویات، مفت تشخیص ہورہی ہے تقریباً 13 مختلف سینٹرز ہیں تو لوگ نکل کر آتے ہیں اور پہلے جو یہ تاثر تھا کہ یہ کوئی بیماری ہے ہی نہیں تو اب یہ ہے کہ لوگ ہمارے سینٹرز میں خود ہی ٹیسٹ کرانے آتے ہیں اگر انہیں کوئی اپنے رویے کے حوالے سے شبہ ہو۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ایڈز ایک لاعلاج مرض ہے لیکن ادویات کے استعمال سے جسم میں موجود وائرس کے پھیلاؤ کو محدود اور اس کے نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے ایڈز سے آگاہی کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حکومت، طبی عملہ، غیر سرکاری تنظیمیں اور عام شہری ایچ آئی وی ایڈز کے حوالے سے منفی رویے کو مسترد کریں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایڈز کے شکار افراد کو بلا امتیاز تشخیص اور علاج تک رسائی فراہم ہو۔
XS
SM
MD
LG