رسائی کے لنکس

یہ فضائی مشقیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب بھارتی کشمیر کے علاقے ’اوڑی‘ میں گزشتہ اتوار کو عسکریت پسندوں کے حملے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی فضائیہ کی مشقیں ’’ہائی مارک 2016‘‘ جاری ہیں اور جمعرات کو فضائیہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہیں۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان مشقوں کو فضائیہ میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

یہ فضائی مشقیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب بھارتی کشمیر کے علاقے ’اوڑی‘ میں گزشتہ اتوار کو عسکریت پسندوں کے حملے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ فضائیہ کی حالیہ مشقیں پہلے سے طے تھیں اور اُن کے بقول یہ معمول کی مشقیں ہیں۔

نفیس ذکریا نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اُن خبروں پر تبصرہ کرنے سے اجتناب کیا جن میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ’اوڑی‘ میں حملے کے بعد بھارت سرحدی علاقوں میں عسکری قوت بڑھا رہا ہے۔

تاہم نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ہر قیمت پر ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

’’پاکستان امن پسند ملک ہے ۔۔۔ لیکن میں یہ واضح کروں کہ مسلح افواج اور پوری قوم ملکی سالمیت اور جغرافیائی حدود کے تحفظ کے لیے تیار ہیں‘‘۔

اُدھر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ٹوئیٹر‘ پر ایک بیان میں کہا کہ ہماری فضائی حدود کا دفاع کرنے والے ہمہ وقت تیار ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ فضائی مشقوں کے سبب پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بدھ کو ملک کے شمالی حصوں کی فضائی حدود میں پروازیں منسوخ کر دی تھیں، جس کی وجہ سے اسلام آباد سے اسکردو، گلگت اور چترال جانے والی پروازیں متاثر ہوئیں۔

XS
SM
MD
LG