رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: فضائی کارروائی میں 15 'دہشت گرد' ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کی طرف سے ایک مختصر بیان میں بتایا گیا کہ یہ کارروائیاں خیبر ایجنسی کے علاقے راجگال میں کی گئیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی کے دوران 15 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ہفتہ کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کی طرف سے ایک مختصر بیان میں بتایا گیا کہ یہ کارروائیاں خیبر ایجنسی کے علاقے راجگال میں کی گئیں۔

فضائی کارروائی کی تفصیل یا مرنے والوں کی شناخت سے متعلق سرکاری طور پر مزید نہیں بتایا گیا اور اس علاقے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پیش آنے والے واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی تقریباً ناممکن ہے۔

پاکستان نے گزشتہ سال جون میں شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بھرپور فوجی کارروائی شروع کی تھی جس میں اب تک حکام تین ہزار سے زائد ملکی و غیرملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک کر کے نوے فیصد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا بتا چکے ہیں۔

بعد ازاں افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبرایجنسی میں بھی فوجی کارروائی شروع کی گئی جن میں سیکڑوں مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا بتایا جا چکا ہے۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ادھر پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے دہشت گردی کی اصل وجوہات سے نمٹنے پر زور دیا ہے۔

لکسمبرگ میں ایشیا یورپ کے وزرائے خارجہ کے بارہویں اجلاس کے موقع پر انھوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنے ملک کی کوششوں اور کامیابیوں سے شرکا کو آگاہ کیا۔

وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اعلیٰ پاکستانی سفارتکار نے خطے اور مختلف عالمی امور سے متعلق پاکستان کے نقطہ نظر کا تذکرہ کیا۔

بیان کے مطابق شرکا نے انسداد دہشت گردی میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

اجلاس میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے ساتھ ساتھ یورپ کے ساتھ رابطوں کا ایک اہم راستہ فراہم کرتا ہے لہذا ایشیا یورپ اجلاس کے شرکا کو چاہیے کہ وہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، تجارت، سلامتی اور عوامی رابطوں کو مضبوط کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مشیر خارجہ نے اس موقع پر افغانستان میں افغانوں کی شمولیت اور قیادت سے امن عمل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ وہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے اپنا تعاون اور حمایت جاری رکھے گا اور اسی سلسلے میں اس نے رواں سال جولائی میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات کی میزبانی کی تھی لیکن بعد میں یہ سلسلہ بوجوہ تعطل کا شکار ہو گیا۔

XS
SM
MD
LG