رسائی کے لنکس

فضائی آلودگی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ اس اضافے میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ ذمہ دار انسان خود ہے۔

ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ہوا میں بڑھتی ہوئی کثافت اور آلودگی کو کم کرنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس سے نہ صرف ملک کی معیشت شدید متاثر ہو گی بلکہ انسانی صحت پر بھی اس کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

اس خدشے کی بنیاد حال ہی میں عالمی بینک کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ ہے جس کے مطابق پاکستان کے شہروں کا شمار دنیا کے اُن مقامات میں ہوتا ہے جہاں فضائی آلودگی سب سے زیادہ ہے اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2005ء میں 22 ہزار بالغ افراد شہروں میں ہوائی آلودگی سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہو کر موت کا شکار ہوئے جب کہ اب اسی وجہ سے سالانہ 80 ہزار افراد علاج کے لیے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں اور آٹھ ہزار شدید کھانسی میں مبتلا ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پانچ سال سے کم عمر کے پچاس لاکھ بچوں میں سانس کی بیماریاں ریکارڈ کی گئیں لیکن ان کے مرض کی شدت کم نوعیت کی تھی۔

اسلام آباد میں فضائی آلودگی اور ماحولیات کے نگران اداے کے سربراہ ڈاکٹر محمد خورشید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ عالمی بینک کی اس رپورٹ کی تیاری میں ان کا ادارہ بھی شامل رہا اور اس جائزہ رپورٹ میں سامنے والے تحقیقی اعدادوشمار بلاشبہ ایک فکر انگیز امر ہے۔

فضائی آلودگی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس اضافے میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ ذمہ دار انسان خود ہے۔ ان کے بقول صنعتی شعبے کی طرف سے ماحولیاتی تحفظ کے منافی اقدامات اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

"گاڑیوں کی تعداد بیس سالوں میں 20 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ چھ لاکھ ہوچکی ہے۔۔۔ ملک میں ہر روز تقریباً 54 ہزار ٹن صنعتی فضلہ جمع ہوتا ہے جس میں سے تقریباً 30 سے 50 فیصد غیر محفوظ طریقے سے جلا دیا جاتا ہے جیسے کہ ربڑ اور پلاسٹک وغیرہ۔۔۔ توانائی کے بحران کی وجہ سے صنعتوں کے متبادل ایندھن جیسے کہ کوئلے وغیرہ پر منتقل ہونے سے بھی ہوائی آلودگی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔"

ڈاکٹر خورشید کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق 14 بین الاقوامی میثاقوں پر دستخط کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانا اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ لیکن ان کے بقول وسائل کی عدم دستیابی یا کمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو پا رہا۔

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جہاں سرکاری سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے وہیں لوگوں میں اس بات کا شعور بیدار کرنا بھی ضروری ہے کہ ہوا کو صاف رکھنے میں ان کا کردار بھی بہت اہم ہے۔

"پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کیا جائے تو اس سے بھی آلودگی کم ہو سکتی ہے۔ آج سے بیس سال پہلے سیکرٹریٹ میں گاڑیوں کی پارکنگ میں بہت کم گاڑیاں ہوتی تھیں۔ اب ہر بندہ اپنی گاڑی میں سفر کرتا ہے، شہر میں گاڑیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے تو اگر پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبے ہوں جیسا کہ دوسرے ملکوں میں ہوتا ہے تو اس سے بھی بہت حد تک آلودگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔"

ڈاکٹر خورشید کے بقول 2012ء میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ماحولیاتی تحفظ کا شعبہ بھی صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے اور سرکاری سطح پر فنڈ کی کمی کے علاوہ اب بیرونی ممالک یا اس بارے میں امدادی اداروں کی طرف سے بھی اس مقدار میں فنڈز دستیاب نہیں۔

عالمی بینک نے بھی اپنی رپورٹ میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت شہروں میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پالیسی سازی کے وقت اسے ترجیح دے اور مختصر و درمیانی مدت کے منصوبے بنائے جائیں۔

موجودہ حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہروں میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں پبلک ٹرانسپورٹ اور شجرکاری بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG