رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان،خیبر میں کم ازکم 24 شدت پسند ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دتہ خیل کے مختلف حصوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں غیر ملکی عسکریت پسندوں سمیت کم ازکم 17 شدت پسند مارے گئے۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جاری کارروائیوں میں مزید 24 شدت پسندوں کو ہلاک اور ان کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق منگل کی صبح شمالی وزیرستان میں فضائیہ کی مدد سے دتہ خیل کے مختلف حصوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں غیر ملکی عسکریت پسندوں سمیت کم ازکم 17 شدت پسند مارے گئے۔

شمالی وزیرستان میں فوج نے 15 جون سے ضرب عضب کے نام سے بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک 1200 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ حکام کے بقول دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر اور بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ کردیا گیا ہے۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی فوج نے اکتوبر میں اس وقت خیبر ون کے نام سے کارروائی شروع کی جب ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ شمالی وزیرستان سے فرار ہو کر شدت پسند یہاں پناہ لے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق منگل کو یہاں لگ بھگ پچاس سے ساٹھ شدت پسندوں نے تیراہ کے علاقے میں ایک چوکی پر حملہ کیا۔

سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہاں کم ازکم سات شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔

قبائلی علاقوں میں صحافیوں کی رسائی نہ ہونے کے سبب یہاں پیش آنے والے واقعات اور ہلاکتوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں تمام دہشت گردوں کے خلاف بغیر کسی تفریق کے کر رہا ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستان انسداد دہشت گردی کی عالمی جنگ کا حصہ رہا ہے اور اس میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 50 ہزار سے زائد پاکستانی ہلاک جب کہ معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

جون سے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے مجموعی طور پر ملک میں ماضی کی نسبت دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

امریکہ نے بھی دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو قابل استائش قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG