رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی سے ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد کی نقل مکانی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

'ایف ڈی ایم اے' کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1,71,559 افراد خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔جن میں سے 91 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فوج کی طرف سے علاقے میں روپوش دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد اس علاقے سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔

قبائلی علاقوں میں آفات سے نمٹنے کے ادارے 'ایف ڈی ایم اے' کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1,71,559 افراد خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں جن میں سے 91 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں میں خواتین کی تعداد لگ بھگ چالیس ہزار ہے جب کہ دیگر مرد حضرات ہیں۔

'ایف ڈی ایم اے' کی ایک عہدیدار فوزیہ شہزاد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نقل مکانی کرنے والوں کو جلوزئی کیمپ میں قیام کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

''خواتین جو اپنے خاندانوں یا بغیر خاندان کے آ رہی ہیں اُنھیں اور بچوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔''

حکام کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں میں سے بیشتر اپنے عزیز و اقارب ہی کے ہاں قیام کر رہے ہیں۔

پاکستانی فوج نے رواں ماہ ہی خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں خاص طور پر تحصیل باڑہ اور وادی تیراہ میں روپوش دہشت گردوں کے خلاف 'خیبر ون' کے نام سے ایک کارروائی شروع کی تھی۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن 'ضرب عضب' کا ہی تسلسل ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن کے آغاز کے بعد بہت سے دہشت گرد فرار ہو کر خیبر ایجنسی میں منظم ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ہدف بنایا جا رہا ہے۔

خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہیں اور جمعرات کو اس علاقے میں کی گئی فضائی کارروائیوں میں فوج کے مطابق 20 دہشت گرد ہلاک جب کہ اُن کے زیر استعمال پانچ ٹھکانے تباہ کیے گئے تھے۔

رواں ہفتے ہی خیبر ایجنسی میں فوج اور دہشت گردوں کے درمیان ایک مہلک جھڑپ ہوئی جس میں آٹھ فوجی ہلاک ہو گئے تھے جب کہ 21 عسکریت پسند بھی مارے گئے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کہہ چکے ہیں کہ خیبر ایجنسی میں درجنوں دہشت گرد اب تک کی کارروائیوں میں مارے جا چکے ہیں جب کہ 100 سے زائد نے ہتھیار پھینک کر خود کو حکام کے حوالے بھی کیا ہے۔

اُدھر شمالی وزیرستان میں 15 جون سے جاری فوجی کارروائی میں حکام کے مطابق 1100 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جب کہ اُن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً نا ممکن ہے کیوں کہ جس علاقے میں یہ کارروائیاں جاری ہیں وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کو رسائی نہیں۔

XS
SM
MD
LG